جنرل قمر جاوید باجوہ میک ماسٹر اہم ملاقات: پاک امریکہ تعلقا، دفاعی تعاون او خطے کی سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

  • وزیرا عظم نے امریکی مشیر قومی سلامتی سے ملاقات کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات کے حل بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں مدد دینے کے لئے امریکی صدر ٹرمپ کی آمادگی کاخیر مقدم کیا
  • مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے امریکی مشیر سے ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو سے متعلق ڈوزیئر جس میں پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت موجود ہیں بھی پیش کیا

راولپنڈی(این این آئی)چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی مشیر قومی سلامتی ایچ آر میک ماسٹر نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات ، دفاعی تعاون اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے امریکہ کے مشیر قومی سلامتی ایچ آر میک ماسٹر نے جی ایچ کیو میں پیر کو ملاقات کی ۔ ملاقات کے دوران پاک امریکہ تعلقات ، دفاعی تعاون اور خطے کی سیکیورٹی سے متعلق امور زیر غور لائے گئے ۔ اس سے پہلے وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے افغانستان کی خراب سکیورٹی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان افغان بحران کے حل کے جائزہ کےلئے عالمی برادری کے ساتھ ملکر کام کرنے کےلئے تیار ہے ¾پاکستان اور بھارت کے درمیان آگے بڑھنے کا واحد راستہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا بامقصد بات چیت کے ذریعے حل ہے ۔وہ پیر کو یہاں امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر کے ساتھ ملاقات کے دوران بات چیت کررہے تھے ۔ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی وفد کے ہمراہ امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل ،قائم مقام خصوصی نمائندہ برائے افغانستان اور پاکستان لارل ملر ، جنوبی ایشیاءکے لئے قومی سلامتی کے سینئر ڈائریکٹر مادام لیزاکرٹس اور پاکستان کے لئے قومی سلامتی کے ڈائریکٹر جان جے وائز شامل تھے۔ اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار، وزیر اعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز ، معاون خصوصی طارق فاطمی ، قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے افغانستان کی خراب سکیورٹی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان افغان بحران کے حل کے جائزہ کے لئے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے ۔ وزیر اعظم نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں اپنی حکومت کی ان کوششوں اور اقدامات سے آگاہ کیا جس کے نتیجہ میں سلامتی کی مجموعی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے اور ملک میں معاشی ترقی کی راہ ہموار ہوئی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاکہ عالمی برادری نئے پاکستان کے جذبے کے ساتھ ہونے والی ترقی کی مکمل تعریف کررہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ان کی حکومت نے دہشت گردی اورانتہاپسندی کے خاتمے کےلئے جامع اتفاق رائے پیدا کیا اور معیشت میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات سے ایک معتدل اور ترقی پسند اور جمہوری اسلامی ملک کی بنیاد رکھی جو امریکااور دنیا کے ساتھ کام کرنے کےلئے تیارہے ۔ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آگے بڑھنے کا واحد راستہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا بامقصد بات چیت کے ذریعے حل ہے ۔ انہوںنے پر امن ہمسائیگی کےلئے اپنی کمٹمنٹ کااعادہ کرتے ہوئے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کے لئے پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیرا عظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلافات کے حل بالخصوص مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلہ میں مدد دینے کے لئے امریکی صدر ٹرمپ کی آمادگی کاخیر مقدم کیا اور کہاکہ اس سے خطے میں پائیدار امن و سلامتی اور خوشحالی کے قیام میں مدد مل سکتی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے وزیر اعظم کو امریکی صدر ٹرمپ کی نیک خواہشات پہنچائیں اور انہیں یقین دلایا کہ نئی امریکی انتظامیہ دوطرفہ تعلقات مضبوط بنانے، افغانستان اور جنوبی ایشیاءکے خطہ میںامن واستحکام کے حصول کے لئے پاکستان کے ساتھ کام کرنے کے لئے پر عزم ہے۔یاد رہے کہ ۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل میک ماسٹر کا امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت سے پاکستان کے لئے یہ پہلا دورہ ہے۔
مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل مک ماسٹر نے ملاقات کی ہے۔اسلام آباد میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میکماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ افغانستان میں قیام امن، سیکیورٹی اور موجودہ صورتحال کے امور بھی زیر غور آئے۔ملاقات کے دوران سرتاج عزیز نے کلبھوشن یادیو سے متعلق ڈوزیئر امریکی مشیر کے حوالے کیا جس میں کلبھوشن یادیواورپاکستان میں بھارتی مداخلت کےثبوت موجود ہیں۔

Scroll To Top