نئی امریکی انتظامیہ کا پہلا باضابطہ رابطہ

zaheer-babar-logo


وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے اور مضبوط شراکت کا خواہاں ہے تاکہ خطے اور اس سے باہر امن اور سلامتی کو فروغ دیا جاسکے۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر لیفٹننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات علاقائی اور عالمی حالات میں قیام امن کے لیے لازم ہیں لہذا اعلی ترین سطح پر پاک-امریکا دو طرفہ تعلقات، افغانستان کی صورتحال اور پاک-بھارت کشیدگی سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہنا چاہے۔
پاک امریکہ تعلقات اگرچہ کئی دہائیوں پر محیط ہیں مگر تاحال اس میں ایسی پختگی دیکھنے میں نہیں آئی جس کی بجا طور پر ضرورت ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ درپیش مسائل کی بڑی زمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے جس نے پاکستان کو ہمیشہ اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے استمال کیا۔ وزیراعظم نوازشریف کی ملاقات اس لحاظ سے بھی اہم رہی کہ یہ نئی امریکی انتظامیہ کے تحت پاکستان اور امریکا کے درمیان پہلا باقاعدہ اعلی سطح کا رابطہ ہے۔
پاکستانی عوام امریکی مشیر قومی سلامتی کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر ان تمام مشکلات کو حل کیا جانا ضروری ہے جو کسی نہ کسی شکل میں مثالی تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بن چکیں۔ امریکی حکومت کو دراصل پاکستان کے ان اقدامات اور کوششوں کو سراہنا ہوگا جو وہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کررہا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ پاکستان میں جاری ترقیاتی کاموں میں اپنا کردار ادا کرے۔
تاریخی طور پر پاک امریکا تعلقات ہر دور میں چیلنجز سے بھرپور رہے ہیں لہذا امریکہ کو بھارت اور افغانستان کے ساتھ پرامن تعلقات کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ کو سمجھ لینا چاہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت دیگر معاملات بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ دراصل جنوبی ایشیاءمیں قیام امن کا کا واحد ذریعہ بامعنی مذاکرات ہیں جس کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ دراصل پاکستان نے بھارت ساتھ کشیدگی ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت کا پہلے ہی خیرمقدم کرچکا ہے۔بظاہر یہ تاثر موجود ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے تیار ہے تاکہ افغانستان سمیت پورے جنوبی ایشیائی خطے میں امن اور استحکام یقینی بنانا کا اپنا وعدہ پورا کرسکے۔امریکہ کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جنوبی ایشیاءمیں قیام امن کی کوششوںمیں سنجیدہ ہے۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے تمام بموں کی ماں کہلانے والے بم کا استمال دراصل یہ پیغام دے گیا کہ افغانستان میں طاقت کا استمال ہی اس کے لیے پہلی ترجیح ہے۔ امریکہ بہادر جان لے کہ جنوبی ایشیاءمیں تیزی سے چین اور روس کا اثررسوخ اسے من مانا کھیل نہیں کھیلنے دے گا۔ صرف اور صرف بھارت کی حمایت کرکے امریکہ کسی طورپر وہ مقاصد پورے نہیں کرسکتا جو اس نے اپنے طور پر مقرر کررکھے۔ مسائل کا حل دراصل کچھ لو اور دو کی پالیسی میں ہی مضمر ہے جس کے لیے امریکہ کو اپنا طرزعمل فوری طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔
دفتر خارجہ میں پاکستان اور امریکا کے دوران وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے جس میں پاکستانی وفد کی قیادت سرتاج عزیز نے کی جبکہ قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک ہوئے اس موقعہ پر وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کئی دہائیوں سے دوستی کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں لہذا ان تعلقات کو مذید بہتر بنانا ہوگا۔
ضرب عضب ہو یا ردالفساد امریکہ باخوبی جانتا ہے کہ خطے میں پاکستانی پالییسیوں کے باعث بڑی حد تک ا امن قائم ہوا ہے۔ پاکستان میں اب بھی نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے ٹھوس کوشش کی جارہی ۔(ڈیک) یقینا پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن و امان کے قیام کے لیے کوشاں ہے مگر اس کے لیے لازمی طور پر پاک افغان سرحد پر موثر بارڈر میکنزم بنانے کے لیے اس کے اقدمات کی حوصلہ افزائی کی جائے(ڈیک) ۔ اگر نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے تو اس کے لیے پاکستان پر ڈو مور کا راگ بند کرنا ہوگا۔ پاکستان کی قربانیوں کا کھلے دل سے اعتراف کیے بغیر پچیدہ مسائل پر قابو پانا ناممکن ہے۔ دراصل دونوں ملکوں کو مشترکہ مقاصد حاصل کرنے کے لیے اس انداز میں مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں باہمی اعتماد کو فروغ ملے۔
ادھر امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات ہوئی آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایچ آر میک ماسٹر اور جنرل قمر باجوہ کے درمیان ملاقات میں پاک امریکا تعلقات، دفاعی تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے معاملات زیر بحث آئے۔یاد رہے کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر اس سے قبل افغانستان کا بھی دورہ کرچکے جبکہ ان کا بھارت کا دورہ بھی شیڈول ہے۔سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کا افغانستان میں سب سے بڑا غیر جوہری بم گرائے جانے کے بعد قومی سلامتی کے مشیر کے خطے کے مختلف ممالک کے دوروں کو اہمیت کا حامل ہے تاکہ بدلی ہوئی صورت حال میں علاقائی ممالک کا نقطہ نظر معلوم کیا جاسکے۔

Scroll To Top