وقت آگیا ہے کہ ہم عبداللہ بن ابی کے پیروکاروں کو ان کے گھرو ں تک محدود کردیں 19-02-2011

یوں تو وہ سینہ ٹھوک کرکہتے ہیں کہ ہم ” بھی “ مسلمان ہیں لیکن جب بات اسلام کی آتی ہے تو وہ ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام کو سیاست سے معاشرت سے اور امور مملکت سے دور رکھا جانا چاہئے۔ ایسا وہ کیوں کہتے ہیں اس کا جواب وہی بہتر طور پر دے سکتے ہیں۔ زیادہ تر ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ مذہب آدمی کا ذاتی معاملہ ہے ` بے شک وہ مسجد میں جاکر نمازیں پڑھے یا مندر اور گرجے میں جاکر عبادت کرے اس سے ملک اور معاشرے کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کی اس سوچ کے پیچھے یہ استدلال ہے کہ اگر مذہب کو سیاست میں لائیں گے تو بڑا فساد ہوگا۔ وہ مذہب کو نمازوں ` روزوں اور حج و زکوٰة تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔
اگر اسلام صرف نمازوں روزوں حج اور زکوٰة تک محدود ہوتا تو آنحضرت پر قرآن حکیم کا نزول انیس برس تک جاری نہ رہتا۔
جو لوگ اسلام کی تاریخ سے واقف ہیں انہیں پوری طرح اس بات کا علم ہوگا کہ آنحضرت کی پوری زندگی قوانین خداوندی کے عملی نفاذ میں گزری۔ کہنے کو تو عبداللہ بن ابی بھی مسلمان تھا اور وہ بھی سینہ ٹھوک کر اپنے آپ کو مسلمان قرار دیتا تھا لیکن عملی طور پر اس ک کیا کردار تھا وہ تاریخ کے طالب علموں سے ڈھکا چھپا نہیں۔ قرآن حکیم میں اسے اور اس کے قبیل کے لوگوں کو منافقین کہا گیا ہے۔
منافقین کی اصطلاح ایسے لوگوں کے بارے میں ہی ہے جو اپنی پہچان تو مسلمانوں کے طور پر کراتے ہیں مگر اسلام کو اپنی زندگی سے دور بلکہ خارج دیکھنا چاہتے ہیں۔
اور یہاں یہ بات بھی واضح ہوجانی چاہئے کہ اسلام داڑھی مونچھ ` رنگ برنگی پگڑیوں ` اور شلواروں کی لمبائی یا اونچائی میں نہیں پایا جاتا اسلام کا تعلق آدمی کی سوچ اور اس کے عمل سے ہے۔
اسلام آدمی کے دل میں ذہن میں اور عمل میں بستا ہے۔ ایک سچے مسلمان کے لئے مولانا فضل الرحمان یا مولانا منور حسن یا مولانا فضل کریم کا حلیہ اختیار کرنا ضروری نہیں ` مسلمان علامہ اقبال ؒ اور محمد علی جناح ؒ کی صورت میں بھی موجود ہوتا ہے بلکہ بڑی شان سے موجود ہوا کرتا ہے۔
میرے نزدیک اسلام اس جدوجہد کا نام ہے جو آنحضرت نے دنیائے عرب کی معاشرت اور سیاست تبدیل کرنے اور اسے پوری دنیا کے لئے ایک مثال بنانے کے لئے کی۔ اس جدوجہد کا نقطہ عروج آپ کا آخری خطبہ تھا جس میں آپ نے فرمایا۔
” لوگو گواہی دو کہ خدا نے مجھ پر جو فرض عائد کیا تھا وہ میں نے پورا کیا۔“
” پورا کیا یا رسول “ لوگوں نے گواہی دی ۔ اور اس گواہی پر آپ نے فرمایا کہ آج دین مکمل ہوا۔ آج سے سب پر فرض ہے کہ وہ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں “
میں اسلام کو سیاست سے دور رکھنے والوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اسلام کو پوری طرح اختیار کئے بغیر ہم اسلام میں پورے کے پورے کیسے داخل ہوسکتے ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ ہم عبداللہ بن ابی کے پیروکاروں کو ان کے گھرو ں تک محدود کردیں اور ان کے شر سے اس عظیم مملکت کو بچائیں جو عہد حاضر کی ریاست مدینہ بننے کے لئے قائم ہوئی تھی۔

Scroll To Top