یارب کہیں ایسا نہ ہو کہ موذن اذان دینا بھول جائے !

aaj-ki-baat-new-21-april

رمضان کا مبارک مہینہ اب زیادہ دور نہیں۔۔۔ حکمِ خداوندی کو ایک اجتماعی عبادت کے طور پر ادا کرنے کا مہینہ۔۔۔صبر کی آزمائش کا مہینہ۔۔۔ گزری ہوئی زندگی پر نظر ڈالنے اور آنے والی زندگی کے اہداف متعین کرنے کا مہینہ۔۔۔
اگلے مہینے کے آخری ہفتے کے دوران عالمِ اسلام میں اللہ کو معبودِ واحد اور حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا رسولِ آخر ماننے والے روزے رکھ رہے ہوں گے۔۔۔ کیا اس سے پہلے پاناما کیس کا فیصلہ آجائے گا۔۔۔؟ کیا ماہِ رمضان میں ہم اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں سربسجودہوتے وقت احساسِ تشکر سے سرشار ہوں گے کہ اس نے ہماری دعائیں بالآخر سن لیں؟ یا پھر ہماری دعاﺅں میں وہی کرب ہوگا ` وہی تڑپ ہوگی ` وہی بے چارگی ہو گی ` وہی التجاہوگی جوکئی دہائیوں سے ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے۔۔۔
اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ہم مزید آزمائش کے لئے تیار نہیں۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ ہماری آزمائش کو طول ہی دینا چاہتا ہے تو ہمارے سامنے سوائے اس کے اور کیا چارہ ہے کہ سر تسلیم خم کریں اور اپنے خالق و معبود سے کہیں :” شاید ابھی ہماری سزا ختم نہیں ہوئی رب قہار وجبار ۔۔۔ مگر مت بھول کہ تُو رب رحمان ورحیم و غفور و کریم بھی ہے۔۔۔ ہم تیری رحمتوں کے طلب گار ہیں۔۔۔ ہمارے گناہ بخش دے۔۔۔ ہمارے مقدر سے اس عذاب کا کرب نکال باہر پھینک جو ہمارے حکمرانوں کی صورت میں ہم پر نازل ہوا اور مسلط ہے۔۔۔“ یہ انتظار بھی کس قدر عجیب لذت اور کس قدر شدید کرب لئے ہوتا ہے۔۔۔ لذت امید کی ہوتی ہے اور کرب خدشات کا۔۔۔
پاناما کیس کے فیصلے کا انتظار آٹھویں ہفتے سے نویں ہفتے میں داخل ہونے والا ہے۔۔۔ ہم انہیں جانتے کہ وہ کون سا مبارک ہفتہ ہوگا جب ہمارا پل پل صدی کا گماں دینے والا انتظار ختم ہوگا۔۔۔ جب ہمارے صبر کی آزمائش اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ ختم ہوگی۔۔۔ جب موذن کہے گا کہ صلواة کی طرف آﺅ۔۔۔ فلاح کی طرف آﺅ۔۔۔ نماز نیند سے بہتر ہے۔۔۔“
مگر یا رب کہیں ایسا نہ ہو کہ موذن اذان دینا بھول جائے۔۔۔ اور ہم بھی سوتے رہ جائیں۔۔۔ اور وہ بھی سوتے رہ جائیں جن کے جاگنے کا ہمیں انتظار ہے۔۔۔
دل سے ایک شکوہ بلند ہورہا ہے۔۔۔
مگر شکوہ بلند ہوگیا تو جوابِ شکوہ بھی آئے گا۔۔۔ تُو کہے گا رب کہ ” جو کچھ ہم نے بویا وہی ہم کاٹیں گے ۔۔۔“
نہیں نہیں نہیں۔۔۔ محمد ﷺ کے رب ہمیں معاف کر۔۔۔

Scroll To Top