ایک اور کلبھوشن توجہ مانگ رہا ہے اے اہلِ وطن۔۔!

kuch-khabrian-new-copyبات یہاں تک تو پہنچی ہے کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل غفور نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ آپریشن ردالفساد کے ذریعے ملک سے فساد کا نام ونشان مٹا دیا جائے گا۔ مگر بات جائے گی کہاں تک؟ ہم نہیں جانتے۔ فساد محض ایک لفظ نہیں ایک رویہ ایک سوچ اور ایک کلچر کا نام ہے۔ فساد صرف وہ مسّلمہ یا ممکنہ دہشتگرد نہیں جو کسی چھاپے کے دوران پکڑا یا مارا جاتا ہے۔۔۔ فساد وہ ملک دشمن سمگلر ، وہ منی لانڈرر، وہ زرپرست وہ کرپٹ سیاستدان بھی ہے۔ وہ اہلکار بھی ہے۔ وہ ”عوامی نمائندہ“ بھی ہے جس کی نشاندہی تو ہو جاتی ہے، جو پکڑا بھی جاتا ہے مگر جس کے ہاتھ اتنے لمبے ہوتے ہیں کہ کوئی جج اس کی درخواست ضمانت مسترد نہیں کرتا اور کوئی قانون اسے ملک سے فرار ہونے سے نہیں روک پاتا۔
خدا کرے کہ فوج کا عزمِ صمیم ریت کا گھر وندہ ثابت نہ ہو۔
پہلا امتحان ڈان لیکس کی صورت میں سامنے آنے والا ہے۔ میجر جنرل غفور نے چوہدری نثار کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی میں کوئی اتفاقِ رائے (consensus)ہوا۔۔ کمیٹی کا کام حقائق سامنے لانا ہے، اتفاقِ رائے پیدا کرنا نہیں۔
خبریں بہت ہیں مگر چونکہ بات کلبھوشن سنگھ کی زوروشور سے چل رہی ہے اور آرمی چیف کا یہ اٹل موقف و اشگاف الفاظ میں سامنے آچکا ہے کہ کلبھوشن کے معاملے میں فوج کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔میں محض علامتی طور پر کہوں گا کہ ہمارے ملک میں اور بھی کلبھوشن موجود ہیں جنہیں قانون کی گر فت میں لانا ضروری ہے۔
ہر کلبھوشن کے دو نام ہوتے ہیں۔ ایک نام سزایافتہ کلبھوشن کا مبارک حسین پٹیل بھی ہے۔ ایک اور کلبھوشن بھی ہے جس کا دوسرا نام صالح ظافر ہے جو ایک بڑے اخباری گروپ کا رپورٹر اور ہمارے وزیر اعظم کا لاڈلا ہے۔
اس نے خبر دی ہے کہ کلبھوشن یادیو کے بارے میں ہماری فوج کا دعویٰ غلط ہے کہ اسے بلوچستان سے پکڑا گیا۔ اسے بھارتی موقف کے عین مطابق ایران سے اغواءکر کے پاکستان لایا گیا۔۔۔۔
کلبھوشن کو کلبھوشن سے ہمدردی نہیں ہوگی تو اور کسے ہوگی۔۔؟

Scroll To Top