مذہبی اور سیکولر انتہا پسندی دونوں امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں

ahmed-salman-anwer
عبدالولی خان یونیورسٹی میں دو روز قبل مشتعل ہجوم نے شعبہ صحافت کے طالبعلم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام میں قتل کر دیا ۔ اس واقعہ کی پاکستان بھر میں حکومتی اور اعلیٰ سطح پر مذمت جاری ہے۔پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالبعلم مشال خان کو مبینہ توہین مذہب کے الزام پر تشدد کر کے قتل کرنے کا نوٹس لے لیا ہے۔بلاشبہ اس مشتعل ہجوم نے قانون ہاتھ میں لے کرسنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے اورسخت سزا کا مستحق ہے۔ اسلام ہر گز کسی فرد کو خود سے منصف بننے یا سزادینے کا اختیار نہیںدیتا ۔
پاکستان میں ان مذہبی پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی ادارہ یا منصب ان واقعات کی اصل جڑ اور بنیاد لادین طبقات کی طرف سے روز بروز بڑھتی ہوئی ”اہانت اسلام “ پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔ اس بڑھتی ہوئی مذہبی اشتعال انگیزی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حال میں پاکستان میں بھینسا، موچی ار روشنی جیسے گستاخانہ پیجز پر کی جانے بدترین اہانت اللہ و رسول اللہ ﷺ نے مسلم اُمہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اور ایسے میں بھی ان لعنتی افراد کے خلاف کوئی خاطر کاروائی بھی ابھی تک عمل میں نہیں لائی گئی۔ جب کہ میڈیا پر چند حلقوں کی جانب سے مبینہ گستاخان کو آزادی رائے اور بلاگرز جیسے القابات دے کر مختلف رائے سے تحفظ دینے کی سازش جاری ہے۔
نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں زیادتی کا ارتکاب بدترین گناہ ہی نہیں، سنگین ترین جرم بھی ہے۔ جولوگ اسے ماں باپ کی نافرمانی اور قطع رحمی کی طرح محض ایک گناہ سمجھتے ہیں، وہ غلطی پر ہیں۔ اسلام کی رو سے اہانتِ رسول بدترین جرم ہے، جس کی سزا دینا خلافتِ اسلامیہ کا فرض ہے۔ نبی کریمﷺ کی ذات پر طعن وتشنیع آپ پر ایک بہتانِ عظیم بھی ہے۔ جس طرح کسی جرم کے ارتکاب پر محض توبہ اور رجوع کافی نہیں ہوتے، بلکہ چوری یا زنا کی طرح عوام میں ظاہر ہوجانے کے بعد اس کی سزا دینا مسلم حکمرانوں کے لئے واجب ہوجاتا ہے، اسی طرح اہانتِ رسول کا سنگین جرم بھی مستوجبِ سزا ہے۔ اگر مسلمان حکمران اس کی سزا دینے سے احتراز کرتے ہیں ، تو وہ اپنے شرعی فریضہ سے واضح انحراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔
آج بدقسمتی سے نبی اسلامﷺ کی شان رسالت میں کی جانے والی گستاخیاں، اس تکرار، تسلسل، ڈھٹائی، وسعت اور بڑے پیمانے پر جاری ہیں، جن کا ماضی میں کوئی وجود نہیں ملتا۔ جن لوگوں نے ناموس رسالت کے ان حالیہ رکیک حملوں کا جائزہ لیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کوئی مسلمان یا سلیم القلب شخص ان مکروہ کلمات ومناظر کو چند لمحات کے لئے نہیں دیکھ سکتا۔ماضی کا مسلم حکمران دیبل میں کسی ایک مسلم خاتون کی عصمت دری پر تڑپ اٹھتا اور اس کے نتیجے میں آنے والے لشکرِ اسلام سے آخرکار پورا برصغیر اسلام کے نور سے منور ہوجاتا، کبھی وا معتصماہ کی پکارپر مسلمان خلیفہ بے چین ہواٹھتا اور روم کے شہروں انقرہ وعموریہ کو زیرنگین لا کر دم لیتا۔ کبھی خلیفہ ہارون الرشید وقت کے امام سے پوچھتا کہ اہانتِ رسول پر میری ذمہ داری کیا ہے، توامام دار الہجرت بے چین ہوکر جواب دیتے کہ ”اس اُمت کو دنیا میں جینے کا حق نہیں رہتا جس کے نبی کی توہین کردی جائے۔“
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلم خلفا نے رسالت کے تقدس کو اپنا فرضِ اوّلین جانا اور اس کے لئے جہاد کیا۔شانِ رسالت میں دست دراز ی کرنے والے بدترین دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اربوں مسلمانوں کے دلوں کو ہی چھلنی نہیں کرتے، بلکہ بنی نوع انسانیت کے شرف کو پامال کرتے ہیں۔ وہ اس شخصیتﷺ پر تہمت لگا کر گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں جس نے انسانیت کو جینا سکھایا۔ جس نے انسان ہی نہیں، اللہ کی ہر مخلوق کے لئے رحمت پر مبنی احکامات جاری کئے۔
اس واقعہ کے متعلق روزنامہ ”اوصاف“ کی خبر کے مطابق مشال جنرلزم ڈیپارٹمنٹ کے 22 ساتھی طلباءعبداللہ اور زبیر کی ساتھ مل کر اسلام و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مبینہ گستاخیپر طلباء نے یونیورسٹری انتظامیہ کو اس واقعے کی شکایت کی تو جمعرات مورخہ 13 اپریل کو نوٹفیکیشن کے ذریعے ان تینوں طلباءپر لگائے گئے الزام کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیاگیا اور اس کمیٹی کے فیصلے کے آنے تک تینوں کے یونیورسٹری میں داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔
سزا دینا عدالتوں کا کام ہے لیکن اگر عدالتیں اپنا کام وقت پر کریں تو عوام قانون ہاتھ میںنہ لیں اور مذہبی قوانین کے غلط استعمال کا تدارک کیا جاسکے۔اظہار رائے کی بے مہار اور کھلی آزادی، نسلی، گروہی، لسانی و علاقائی عصبیتوں کے فروغ اور باہمی فساد و جدال کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے ذریعے کسی کے عقائد اور مذہب کی تضحیک کے ذریعے قتل و غارت گری کی راہ بھی کھل سکتی ہے۔ اسی لئے تقریباً ہر جمہوری ملک میں اسے قانونی طور پر روکا گیا ہے اور قابل تعزیر جرم گردانا گیا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ آنحضرت ﷺکی عزت وحرمت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اِیمانی جذبات کا اِحترام کرے ۔ اور ایسے عناصر کوآئین پاکستان کے مطابق آہنی ہاتھوں سے نمٹے جو ان پرتشدد واقعات کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں۔

Scroll To Top