افغانستان میں داعش کی موجودگی علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے،پاکستان

  • مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اتفاق رائے ناگزیر ہے اور پاکستان ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کے خاتمے کیلئے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے

a-new-vision-for-pakistan-and-afghanistan-d195e1f432d793a5f4c62e5c45505fb5
شکاگو (یوا ین پی) پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کی موجودگی علاقائی اور عالمی امن کیلئے خطرہ ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ یہ بات پاکستانی قونصل جنرل فیصل نیاز ترمذی نے یونیورسٹی آف مشی گن میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سیمینار کا اہتمام یونیورسٹی کے سینٹرل فار ساو¿تھ ایشین سٹڈیز نے کیا جس کا موضوع ”پاکستان اینڈ کرنٹ جیو پولیٹکس“ تھا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے فیصل نیازترمذی نے کہا کہ افغان جنگ کے خاتمہ اور خطے میں امن و استحکام کیلئے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات واحد راستہ ہیں۔ اس موقع پر سینٹر فار ساو¿تھ ایشیاءسٹڈیز کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فرینہ میر نے پاکستانی قونصل جنرل کے مشی گن میں تین سال کے دوران طلبہ سے دوسری مرتبہ خطاب کا خیرمقدم کیا۔ اپنے خطاب میں ترمذی نے مسئلہ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت کے درمیان بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے امریکا کی ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم بھی کیا تاہم انہوں نے اس بات پرافسوس ظاہر کیا کہ بھارت نے ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اتفاق رائے ناگزیر ہے اور پاکستان ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کے خاتمے کیلئے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امریکا پر زور دیا کہ وہ ایران،پاکستان، بھارت گیس پائپ لائن کی تعمیر کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے نہ صرف پاکستان اور چین کی اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہو گی بلکہ اس سے ایران، بھارت، سری لنکا اور خلیج فارس سمیت خطے کے دیگر ممالک کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ سیمینار کے اختتام پر سوال وجواب کا سیشن ہوا جو 45 منٹ تک جاری رہا اور اس دوران طلبہ نے پاکستان کے اندرونی حالات، پاک بھارت تعلقات خصوصاً بھارتی خفیہ ادارے کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزائے موت کے تناظر میں تعلقات اور افغانستان کی صورتحال کے بارے میں سوالات کئے۔

Scroll To Top