جو موج انقلاب دریائے نیل سے اٹھی ہے وہ کہاں تک جائے گی ؟ 13-02-2011

اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ 11فروری2011ءکو مصر کے عوام نے اپنے آخری فرعون کو تاریخ میں دفن کردیا۔ اور اگر میں اس عظیم تاریخی واقعے کے ساتھ پوری عرب دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی کی امید وابستہ کرلوں تو بھی غلط نہیں ہوگا۔
علامہ اقبال ؒ نے تقریباً نو دہائیاں قبل اسی امید کو اس تمنا کی صورت میں پیش کیا تھا کہ۔۔۔
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تانجاک کا شغر
اپنے دور عروج میں دنیائے اسلام کی سرحدوں کی وسعت کچھ ایسی ہی تھی کہ اس کا ایک بازو دریائے نیل کی تہذیبوں کا وارث اور امین مصر تھا تو دوسرا بازو سمرقند بخارا تاشقند اور کاشغر تک پھیلا ہوا تھا۔
مصر عظیم اور فاتح تہذیبوں کا گہوارہ بھی رہا ہے اور ان کی گزر گاہ بھی۔ قرآن حکیم میں مصر کا ذکر حضرت یوسف ؑ کے دور سے حضرت موسیٰ ؑ کی ہجرت تک بڑے تواتر کے ساتھ ہوتا ہے۔
فرعون کی اصطلاح باطل کے جبر کی علامت تھی۔ مصر صرف فرعونی تہذیب کا گہوارہ ہی نہیں رہا اس کی زمین پر بخت نصر' جولیس سیزر' سکندراعظم اور اس کے بعد نیپولین جیسے فاتحین کے گھوڑ ے بھی دوڑتے رہے۔
اس سرزمین کو کس قدر اہمیت حاصل تھی اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتاہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ وہاں تشریف لے گئے۔ خلافت راشدہ میں سے کسی نے بھی اس کے علاوہ بیرون حجاز و عراق اور کوئی سفر نہیں کیا۔
صلیبی جنگوں میں یورپ کی اجتماعی قوت کو فیصلہ کن شکست دینے والے رجل عظیم صلاح الدین ایوبیؒ نے مصر کو ہی اپنی مسلم نشاة ثانیہ کا مرکز بنایا۔ اور ہلاکو خان کے لشکر قہار کو تباہی سے ہمکنار کرنے والے سلطان بیبرس سرزمین مصر کے ہی فرزند تھے۔حالیہ دور میں جماعل عبدالناصر نے مصر کی عظمت رفتہ کو واپس لانے کا جو خواب دیکھا تھا وہ جون1967ءمیں اسرائیل کے ہاتھوں ایک ذلت آمیز شکست کے ساتھ چکنا چور ہوگیا۔ جو لوگ اس دور کی تلخ یادوں کے ساتھ مانوس ہیں انہیں یہ بھی یاد ہوگا کہ جب ناصر نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا تو لاکھوں مصری شکست کا غم بھول کر سڑکوں پر نکل آئے تھے اور پورے مصر کی فضائیں ایک ہی نعرے سے گونجی تھیں۔
” ناصر نہیں تو مصر نہیں۔ ہمیں ناصر چاہئے۔“
چوالیس بربس بعد وہی مصری عزم و استقلال کی مشعلیں اٹھائے جس انقلاب پر کمندیں ڈالنے کے لئے سڑکوں پر نکلے اس کا نعرہ کس قدر تھا۔
” جاﺅ مبارک جاﺅ۔ ہمیں آزادی چاہئے۔“ ایک طرف ناصر اہل مصر کی عقیدتوں کا مرکز تھا تو دوسری طرف مبارک اہل مصر کی نفرتوں کا نشانہ بن گیا۔
جو لیڈر عوام سے اپنا رشتہ توڑ کر فرعونی جاہ وحشمت اور فرعونی جبر و تکبر کا راستہ اختیار کرتے ہیں ¾ انہیں ایک نہ ایک روز نشان عبرت ضرور بننا پڑتا ہے۔
مصری انقلاب پر بہت کچھ لکھا جائے گا۔ میں بھی لکھوں گا اور لکھتا رہوں گا۔ لیکن نجانے کیوں مجھے اس بات کا یقین ہے کہ عالم اسلام کو اپنی عظمت رفتہ دوبارہ اپنی گرفت میں لانے کے لئے جس عظیم جست کی ضرورت تھی وہ اہل مصر نے لگادی ہے۔

Scroll To Top