افغانستان میں 9800کلوگرام وزنی بم کیوں گرایا گیا

افعانستان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ننگرہار میں داعش یا دولت اسلامیہ کہلانے والی دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانے پر 9800 کلوگرام وزنی بم کے حملے میں کم از کم 36 شدت پسند مارے گے ہیں۔
افغان وزارت دفاع نے بتایا کہ افغانستان کی وادی مومند کے علاقے میں یہ بم گرایا گیا جہاں دولت اسلامیہ کے مسلح حامیوں کا سرنگوں کا نیٹ ورک موجود ہے۔حکام کے بعقول اس کاروائی میں داعش کے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ بھی تباہ ہوا ۔
افغانستان میں امریکہ کی طرف سے بموں کی ماں کہلانے والے ماں کا استمال جنگ سے تباہ حال ملک کو مذید مشکلات سے دوچار کرے گا۔یاد رہے کہ ایک دہائی سے انکل سام افغانستان میں براجمان ہے۔ طاقت کا وحشیانہ استمال بلاشبہ افغانوں کے مسائل میں اضافا کرسکتا ہے۔ یہ پہلو تشویشناک ہے کہ تاحال یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کیا امریکہ بہادر واقعتا داعش کے خلاف کاروائی کررہا یا اس کے مقاصد کچھ اورہیں۔ دولت اسلامیہ کا ظہور شام میں ہوا۔ عالمی میڈیا میں ایسی خبریں آچکیں کہ انکل سام ہی اس جنگجووں گروہ کو پیسہ اور اسلحہ دینے میں ملوث ہے۔ علاقائی اورعالمی امن دوست قوتوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ کہیں امریکہ افغانستان میں کوئی نیا کھیل کھیلنے تو نہیں جارہا۔ انکل سام کی جانب سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے بم کے استمال کی دنیا کے مختلف امن پسند حلقوں کی جانب سے مذمت کی جارہی ۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی امریکی بم حملے کو 'غیر انسانی اور افغانستان کا بدترین استعمال' قرار دیا ۔
امریکی فوج کے بعقول اس نے جمعرات کی شام افغانستان میں دولت اسلامیہ کہلانے والی دہشت گرد تنظیم کے ٹھکانے پر بم گرایا۔ مذکورہ ہتھیار صوبہ ننگرہار میں واقع دولت اسلامیہ کا سرنگوں پر مبنی کمپلیکس پر گرایا گیا۔ دراصل جی بی یو 43/بی نامی اس بم کو بموں کی ماں کہا جاتا ہے اور یہ تاریخ کا سب سے بڑا غیر جوہری بم ہے جو امریکہ نے کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال کیا۔ تاحال امریکہ کے اس دعوے کی غیر جانبدار زرائع نے تصدیق نے کی کیا واقعتا اس کاروائی کے نتیجے میں دولت اسلامیہ کی” کمر توڑ“ دی گی۔یاد رہے کہ اس بم کا تجربہ پہلی بار 2003 میں کیا گیا تھا لیکن اسے کسی جنگ یا تصادم میں اس سے قبل استعمال نہیں کیا گیا۔بعض حلقوں میں یہ بھی پوچھا جارہا کہ کیا امریکہ نے افغانستان میں یہ بم استمال کرکے تجربہ کیا کہ اس کے نتیجے میں کس قدر تباہی رونما ہوسکتی ہے۔
وائٹ ہاوس کے ترجمان کے مطابق داعش کی سرنگوں اور غاروں کے نظام کو ٹارگٹ کیا جن کے ذریعے جنگجو آزادانہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے تھے۔ اور انھی سرنگوں کے باعث وہ آسانی سے امریکی مشیروں اور افغان فورسز کو نشانہ بنا سکتے تھے۔بعقول ان کے کہ اس بات کی پوری کوشش کی کہ شہریوں کو نقصان نہ پہنچے۔افغان حکام کے مطابق امریکہ نے جس علاقے میں یہ بم گرایا وہ دراصل پہاڑی علاقہ ہے وہاں آبادی بھی کم ہے۔ البتہ اس بم کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ اس کو دو اضلاع دور بھی سنا گیا۔ادھر امریکی حکام اس کاروائی کے نتیجے میں داعش کا پہنچنے والے جانی نقصان کے بارے میں واضح طور پر بتانے سے قاصر ہیں تاہم مقامی آبادی کے مطابق اس حملے میں کئی دہشت گرد مارے گے۔
بادی النظرمیں امریکہ افغانستان میںاس حکمت علی پرکاربند ہے کہ اس کا جانی نقصان کم سے کم ہو، معصوم اور نہتے شہریوں کی جان جانے کی پرواہ نہ امریکہ کو پہلے تھی اور نہ ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے ہی ننگرہار میں دولت اسلامیہ کے ساتھ جھڑپ میں امریکی سپیشل فورسز کا ایک فوجی مارا گیا۔امریکہ اس حملے کا جواز یہ بھی دے رہا کہ داعش کی آئی ای ڈی، بنکروں اور سرنگوں کا استعمال کم کرنے اور اتحادی ممالک کے حملوں کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے دراصل یہی صحیح ہتھیار ہے
ایک اندازے کے مطابق افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوں کی تعداد 1000 سے 5000 تک ہو سکتی ہے۔ پوچھا جارہا کہ آخر کیوں سپرپاور کہلانے والی ریاست کو محض چند ہزار جنگجووں کو نشانہ بنانے کے لیے بڑے ہتھیاروں کا استمال کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
افغانستان میں امریکی فوجی کاروائیوں کا اثر پاکستان پر پڑے گا۔ ایسا ہونا ناممکنات میں سے نہیں کہ انکل سام داعش یا طالبان کے خلاف جوں جوں طاقت استمال بڑھائے گا مسلح گروہوں کے کارکن سرحدی علاقوں میں پناہ کے لیے آسکتے ہیں۔ بادی النظر میں(ڈیک) امریکہ بہادر مسائل کو حل کرنے کی بجائے انھیں الجھانے کی حکمت عملی پر کاربند ہے جس کا نتیجہ ایک طرف افغانستان میں مذید تباہی وانتشار کی شکل میں ظاہر ہوسکتا ہے وہی پاکستان میں وہ دہشت گرد تنظیم پھر سر اٹھا سکتی ہیں جن کو بڑی حد تک کمزور کردیا گیا (ڈیک)۔
افغانستان میں امریکہ کی جانب سے طاقت کا اندھا دھند اسمتال افغان مہاجرین کی واپسی کو التوا ءمیں ڈال دے گا۔ عالمی ادارے بھی یہ کہنے میںحق بجانب ہونگے کہ ایسے ملک میں جہاں امریک اور دہشت گرد دونوں ہی تباہی وبربادی کا ہر حربہ آزما رہے افغان مہاجرین کو بھیجا جانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے افغانستان کا محاذ گرم کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں جو کسی طور پر علاقائی یا عالمی سطح پر بہتری کا پیش خمیہ نہیں ہوسکتی۔

Scroll To Top