مریخ کی ہوا میں دھات کی دریافت

0ہیوسٹن، ٹیکساس: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ کے ماہرین  کا کہنا ہے کہ انہوں نے مریخ کی ہوا میں لوہے، میگنیشیئم اور سوڈیم کے ایٹم دریافت کرلیے ہیں جو مریخ پر مسلسل برستے رہنے والے چھوٹے شہابی شہابی پتھروں کا نتیجہ ہیں۔

یہ دریافت ’ناسا‘ کے خلائی کھوجی ’’میون‘‘ (MAVEN) نے کی ہے جو 2014 سے مریخ کے گرد مدار میں چکر کاٹ رہا ہے اور اپنے مخصوص آلات کی مدد سے اس کی فضا میں موجود مختلف عناصر اور مرکبات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔ اس مقصد کےلیے ’’میون‘‘ پر ایک طاقتور اور حساس طیف نگار (اسپیکٹرو میٹر) نصب ہے جو مریخ کی ہوا سے پلٹنے والی (سورج کی) روشنی کا تجزیہ کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہاں آپ کو بتاتے چلیں کہ ہر عنصر ایک مخصوص انداز سے روشنی منعکس کرتا ہے جس کی بنیاد پر اس کی مقدار، موجودگی اور دیگر طبیعی کیفیات کا پتا چلایا جاسکتا ہے۔ یہی بات طیف نگاری کے علم کی بنیاد بھی ہے لیکن اس طریقے پر مریخی فضاؤں کا جائزہ لینا بہت مشکل ہے کیونکہ اوّل تو مریخ کی فضا ہمارے زمینی کرہ ہوائی کے مقابلے میں بہت ہلکا یعنی صرف 0.6 فیصد دباؤ کا حامل ہے جب کہ اس میں بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 96 فیصد ہے۔ مریخ کے تقریباً 3.99 فیصد کرہ ہوائی میں آرگون، نائٹروجن، آکسیجن، کاربن مونو آکسائیڈ اور میتھین شامل ہیں۔

مریخ کی ہوا میں دھاتی ایٹموں کی مقدار بہت ہی کم ہے، اتنی کم کہ ماضی میں انہیں محدود صلاحیت اور حساسیت والے طیف نگاروں کی مدد سے دریافت نہیں کیا جاسکا۔ مریخ پر انسانی بستیاں بسانے سے پہلے وہاں کی مٹی اور فضا کے بارے میں تفصیلی معلومات ہونا اشد ضروری ہے جن کی روشنی میں ان بستیوں کی بہتر منصوبہ بندی کی جاسکے گی۔ اس دریافت کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’جیو فزیکل ریسرچ لیٹرز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

Scroll To Top