ملالہ پاکستان کا فخر کیوں نہیں

نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کو کینیڈا کی اعزازی شہریت دی گی ۔ اس موقعہ پر انہوں نے کینیڈین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب کی طرح وہ بھی ان کی بہت بڑی مداح ہیں۔ 'مجھے جسٹن ٹروڈو سے ملاقات کرکے بےحد خوشی ہوئی، میں ان کی کابینہ سے مل کر اور ان کے پناہ گزین کے ساتھ رویے کو دیکھ کر کافی متاثر ہوئی، ان کا خواتین اور لڑکیوں کو بااختیار بنانے پر کام بھی کافی متاثر کن ہے'۔“
کسی بھی اہم معاملہ کی طرح وطن عزیز میں بھی ملالہ یوسف زئی کے بارے دو متضاد نقطہ نظر موجود ہیں۔ مثلا کچھ حلقوں کے نزدیک کہ سوات میں ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے دہشت گردی کا حملے دراصل حقیقت سے کہیں بڑھ کر افسانہ ہے۔ مثلا ناقدین کے بعقول اگر ملالہ کو سر میں گولی لگی تو پھر وہ کیونکر بچ گی، پھر وہ کیوں ہمیں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔۔ ایک اور معاملہ جو عام پاکستانی کو نوبل انعام یافتہ لڑکی کے قریب لانے میں رکاوٹ بن رہا وہ اس کی مغرب میںہونے والی پذیرائی ہے۔یہ تاثر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر پھیلایا گیا اگر سابق امریکی صدر بارک اوبامہ اور برطانوی وزیر اعظم ملالہ یوسف زئی کے مداح ہیں تو کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی شکل میں کوئی نہ کوئی خرابی تو ہوگی۔
ملک کے اہل فکر ونظر کو سوچنا ہوگا کہ کیا مغرب سے محاذآرائی کرکے ہم تعمیر وترقی کی نئی راہیں تلاش کرسکتے ہیں یا ترقی یافتہ ملکوں سے تعاون اور خیرسگلالی کی فضا ہی ہمیں موجودہ مسائل سے نکالنے میں معاون ثابت ہوگی۔ سوال تو یہ بھی ہے کیا یہ سچ نہیں کہ مغرب سے نفرت اور حقارت کا سبق کسی اور طرف سے نہیں ان انتہاپسندگروہوں کی جانب سے پڑھایا جارہا جو اہل پاکستان کو بالخصوص اور مسلم دنیا کو بالعموم اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے زمہ داروں کو عصر حاضر کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔ مغربی دنیا آپ کو اچھی لگے یا نہ لگے مگر اس حقیقت سے روگردانی نہیں کی جاسکتی وہاں علم کی حکمرانی ہے۔ آئے روز کی ایجادات اور تحقیقات نت نئی دنیا سے اقوام عالم کو روشناس کروانے کا باعث بن رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں اس قدر ترقی نہیں ہوسکی جس قدر گذشتہ ایک صدی میں ممکن ہوئی۔ ہمیں یورپ کی برائیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اس کی اچھائیوں کی تقلید کرنا ہوگی۔ (ڈیک) مغرب کی علم دوستی ، قانون وانصاف کی سربلندی اور سب سے بڑھ کر عوام کو اہمیت دینے جیسی خوبیوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ سوچنا ہوگا کہ کیا ملالہ یوسف زئی سے اظہار ناپسندیگی کرکے ہم ان قوتوں کو تقویت تو نہیں بخش رہے جو پاکستانیوں کی ترقی ،اسحتکام اور سب سے بڑھ کر امن کی دشمن ہیں۔(ڈیک)
ملالہ یوسف زئی نے کینڈا کے دورے کے دوران کینڈین وزیر اعظم کی بھی تعریف کی۔ ان کے اس اقدام کو یوں بھی لیا جاسکتا ہے کہ دنیا کو شائد ہی کوئی جمہوریت پسند شخص ہوگا جو جسٹسن ٹروڈو کے طرزسیاست سے متاثر نہ ہو۔ شامی مہاجرین کا انھوں نے اپنی سرزمین پر جس انداز میں استقبال کیا دراصل یہ ان کی انسان دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہے کہ مسلم دنیا کے کسی ایک بھی حکمران کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنے مسلمان بہن بھائیوں کا دکھ درد محسوس کرتے ہوئے انھیں اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتا۔ یہی جمہوریت کی خوبی ہے جو درجنوں اسلامی ممالک میں بڑی حد تک ناپید ہے ۔نسل درنسل چلے آنے والے حکمرانوں سے یہ امید رکھنا عبث ہے کہ وہ عام شہری کی حالت زار کا احساس کرلیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملالہ یوسف زئی کو کینڈین وزیر اعظم سے ملاقات کے موقعہ پر کہنا پڑا کہ ” دراصل کہ'ہم سب نے ہی جسٹن ٹروڈو کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے لیکن ایک بات نے مجھے ہمیشہ حیران کیا وہ یہ کہ لوگ ہمیشہ اس پر بات کرتے ہیں کہ جسٹن ٹروڈو کینیڈا کی تاریخ کے دوسرے سب سے نوجوان وزیر اعظم ہیں، وہ یوگا کرتے ہیں، انہوں نے ٹیٹو بھی بنوایا اور بھی بہت کچھ'۔ملالہ نے مزید کہا کہ 'میں جب یہاں آرہی تھی تو سب نے مجھ سے کہا کہ ہمیں بتانا کہ جسٹن ٹروڈو حقیقت میں کیسے نظر آتے ہیں'۔نوبیل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ کے مطابق کے مطابق لوگ کینیڈا کی اعزازی شہریت ملنے سے زیادہ خوش جسٹن ٹروڈو سے ملنے پر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں کینیڈا کے بچوں سے کہنا چاہوں گی کہ آپ کو ایک رہنما بننے کے لیے جسٹن ٹروڈو جتنا ہونے کی ضرورت نہیں ہے'۔ملالہ نے اپنی تقریر کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ پڑوسی ممالک بھی جسٹن ٹروڈو کی مثال کو اپنائیں گے۔
اہل پاکستان کو مغربی جمہوریت سے آگہی حاصل کرنا ہوگی۔حقیقی جمہوریت میںہی عام پاکستانیوں کے بیشتر مسائل کا حل موجود ہے۔ مغربی ملکوں سے یہ سیکھنا ہوگا کہ وہاں کب اور کیسے عوام کے مفاد کو مقدم سمجھا جانے لگا۔ اہل پاکستان نے ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔ کم یا زیادہ کے فرق کے ساتھ ملالہ یوسف زئی ہوں یا مغرب رہنے والے دوسرے پاکستانی ان کے تجربات سے فائدہ اٹھاناہوگا۔بطور قوم ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ کسی طور پر تعمیری نہیں ہوگا۔

Scroll To Top