آئیں ہم بھی اپنی بری تقدیر کو قومی مفاد میں قبول کرلیں 10-02-2011

ہمارے سیاستدانوں کا قابل ستائش کمال یہ ہے کہ وہ ہر کام قومی مفاد میں کیا کرتے ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے پہلے قومی مفاد جاگیرداروں اور وڈیروں کی جابر وظالم حکومت کے خلاف طبل جنگ بجانے میں دیکھا تو حکومت بھی چھوڑ دی اور اپوزیشن کی بنچوں پر بھی جا بیٹھے۔ پھر قومی مفاد کے تقاضے تبدیل ہوئے تو حکومت میں تو شامل نہ ہوئے مگر حکومتی بنچوں پر واپس جابیٹھے۔ قومی مفاد جب کہتا ہے وہ انقلاب اور جنرلز کو آواز دینے لگتے ہیں اور جب قومی مفاد پینترابدلتا ہے تو وہ حکومت کے ساتھ شیر و شکر ہوجاتے ہیں۔ اب خبر آئی ہے کہ وہ قومی مفاد میں صدر زرداری کی مجوزہ گول میز کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
قومی مفد کے تقاضے پورے کرنے میں مولانا فضل الرحمان بھی اپنی مثال ہیں۔ وہ جب بھی حکومت سے چمٹتے ہیں تو قومی مفاد میں چمٹتے ہیں ` اور جب بھی علیحدگی اختیار کرتے ہیں قومی مفاد میں ہی کرتے ہیں۔ ان کا اقتدار سے فیض پانا بھی آئین کے تناظر میں اور اصولی موقف کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔ اور اقتدار کو چھوڑنا بھی آئین کے ہی تناظر میں اوراصولی موقف کی بنیاد پر ہوا کرتا ہے۔ وہ بھی الطاف بھائی کی طرح قومی مفاد کے اسیر ہیں۔اور ان کی ہی طرح زرداری صاحب کی مجوزہ گول میز کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
ادھر میاں نوازشریف کا پی پی پی کے سیاہ کارناموں پر روشنی ڈالنا اور اس کے لیڈروں پر گرجنا برسنا تو قومی مفاد میں ہوتا ہی ہے ` جب زرداری صاحب کی حکومت مشکل میں پھنس جائے تو اس کی مدد کو آنا اور اسے مشکل سے نکلنے کا راستہ فراہم کرنا بھی قومی مفاد میں ہوا کرتا ہے۔
ادھر اے این پی باچا خان کو قومی ہیرو بنا کر پیش کرنے کا فریضہ بھی قومی مفاد میں ہی انجام دے رہی ہے۔
بہت سارے لوگوں کا خیال ہے کہ زرداری صاحب بہت جلد قومی مفاد میں ریمنڈ ڈیوس کے اشو پر امریکی حکومت کے سامنے دو زانو ہوجائیں گے۔ کیوں کہ اس مہینے کے آخر میں انہیں قومی مفاد میں امریکہ کا دورہ بھی کرنا ہے۔
قوم کیوں نہیں سمجھ رہی کہ مہنگائی کرپشن لوٹ مار ` عدم تحفظ اور دھوکہ دہی وغیرہ کا جو کلچر فروغ پا رہا ہے اسے خندہ پشانی کے ساتھ برداشت کرنا اور اسی میں اپنی خوشی تلاش کرنا عوام کے قومی مفاد میں ہے ۔۔۔؟

Scroll To Top