امریکہ پاکستان کومیدانِ کا رزار کیوں بناناچاہتا ہے ؟ 09-02-2011

kal-ki-baat
افواہیں گرم ہیں کہ ہماری ” میڈاِن امریکہ “ حکومت ہمارے تین شہریوں کے قاتل اور ہمارے قوانین اور ہماری قومی غیرت کو للکارنے والے ” مرد میدان “ ریمنڈ ڈیوس کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لئے یا تو پرتول رہی ہے ` یا کوئی جواز تلاش کررہی ہے۔ اس ضمن میں امریکی سفیر منٹر کی اس ملاقات کا ذکر بھی کیا جارہا ہے جو انہوں نے صدر زرداری سے کی ہے اور جس میں انہوں نے اپنے ’ ’ حکام بالا“ کا پیغام ہمارے بالاترین حاکم کو پہنچایا ہے۔ اسی ضمن میں ریمنڈ ڈیوس کی گولیوں کا نشانہ بننے والے ایک جوان فہیم کی بیوہ شمائلہ کی خودکشی کا ذکر نامناسب نہیں ہوگا جو یہ کہتے مر گئی کہ مجھے انصاف چاہئے۔
انصاف تو وطن عزیز کے بچے بچے کو چاہئے مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو امریکی امداد چاہئے۔ صرف امداد ہی نہیں ` انہیں امریکہ کی سرپرستی بھی چاہئے۔
جس استثنیٰ کا ذکر امریکی حکام زور و شور سے کررہے ہیں وہ اگر اس امریکی ” نشانہ باز“ ریمنڈ ڈیوس کو حاصل ہوتا تو پاکستان کے حکمرانوں میں یہ جرا¿ت ہی پیدا نہ ہوتی کہ اس معاملے کو عدالت تک لے کر جاتے۔
اس امر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ یہ شخص نہ صرف یہ کہ ڈپلومیٹ نہیں بلکہ یہ بھی کہ وہ کسی نہایت خطرناک مشن پر تھا ۔ اور یہ مشن تخریبی کارروائیوں کے لئے ایجنٹ بھرتی کرنا بھی ہوسکتا ہے۔
پاکستا ن دنیا کے ان بدقسمت ممالک میں شامل ہے جس کی حکمرانی ایسے افراد کے ہاتھ میں ہیں جن کی حب الوطنی پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔
وفاداریاں خریدنے کے جس کلچر کو مادہ پرستی کے اس دور میںفروغ ملا ہے اور جس کا سہارا سی آئی اے جیسی ایجنسیاں بڑی فراخدلی کے ساتھ لے رہی ہیں ` اس کو سامنے رکھا جائے تو یہ قوم ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کو ہلکے پھلکے انداز میں لینے کی متحمل ہوہی نہیں سکتی۔
ہمیںپنجاب اور وفاق دونوں کی حکومتوں کے اس موقف پر بھروسہ کرناچاہئے کہ آخری فیصلہ عدالت کرے گی۔ لیکن امریکہ اگر واقعی ہمارا دوست ہے تو اسے حکومت پاکستان کو کسی امتحان میں ڈالنے سے گریز کرنا چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ پاکستان کو مصر اور تیونس جیسا میدان کا رزار بنانے میں مہنگائی اور کرپشن جیسے اشوزکا اتنا دخل نہ ہوجتنا ریمنڈ ڈیوس کے معاملے کا ہوسکتا ہے !

Scroll To Top