اتحاد عالم اسلام، وقت کی سب سے بڑی ضرورت

salman-anwerاحمد سلمان انور
یوں تو عالم اسلام ایک عرصہ سے ہی آزمائش و ابتلا سے گزررہاہے اورسامراجی سازشوںکے تحت دہشتگردی، خوریزی اور جنگ جنگ وجدل کی آگ میں جل رہا ہے۔لیکن شام و عراق ان مسلم ممالک میں سے ہے کہ جو گزشتہ کافی عرصہ سے سامراج کی بھڑکائی ہوئی آگ میں جل رہے ہیں۔ جہاں طاقت واقتدار رکھنے والے عناصر اور قوتوں نے اپنے نہتے ،معصوم اور بے گناہ شہریوں پرظلم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں جن کو بنیاد بنا کر عالمی طاقتیں اپنا کھیل کھیلنے کے لیے کوئی وقت ضائع کیے بغیر میدان میں کود پڑتی ہیں۔ اس سے پہلے عراق اور لیبیا اور اس سے بھی پہلے افغانستان ،بوسنیا ،چیچنیااور کشمیر کے مسلمان جرم ضعیفی کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بنتے ہی امریکہ اپنی تمام تر مکارانہ اور شاطرانہ چالوں کے ساتھ بروئے کار ہے۔عالمِ اسلام دوبارہ سے ایک جنگ و جدل کے دور کا شکار نظر آرہا ہے۔ امریکہ نے ایک طرف عراق کو دوبارہ سے جنگ کی آگ میں جھونکنے کےلئے اپنی فوجیں اتار دی ہیں۔ دوسری طرف امریکہ پھر سے ایک نئے بہانے کے ساتھ شام پر حملہ آور ہے۔ امریکہ نے اس سے قبل عراق اور لیبیاکے ساتھ بھی یہی عمل کیا تھا اب معاملہ شام تک آن پہنچا ہے جو یقینا خانہ جنگی کے آخری دہانے تک پہنچ کر ہی رکے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکہ کی اسرائیل سے بڑھتی قربت بھی عالم اسلام کے لیے ایک بہت بڑے خطرے کی گھنٹی ہے۔ جس کا مقصد سیاسی اور معاشی استحکام ہی ہے جس میں ایک دوسرے کو مزید تحفظات فراہم کرنا ہے۔ امریکہ کی نظر میں ہر وہ ملک دہشت گرد ہے جس سے اسرائیل کو خطرہ ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے خیال میں تمام مسلمان ممالک اسرائیل کے لیے خطرہ ہیں اس لئے ایک ایک کرکے سب کی باری آئے گی اور مسلمان اس وقت تک مار کھاتے رہیں گے جب تک ظالموں کے خلاف ایک نہیں ہوجاتے۔
اگر پچھلی پانچ دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو ایک بات بہت واضح ہے کہ امریکہ نے باقی دنیا کو اپنے مفادات کی خاطر صرف عدم استحکام دیا ہے۔آج دنیا میں خود مغربی قوتوں کی صفوں میں ایسے بہت سی نامور شخصیات موجود ہیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو ٹھوس ثبوت و شواہد کی بنیاد پر برملا دھوکا اور فریب قرار دے رہی ہیں۔ ان کے تعاون سے مسلمان اپنا مقدمہ مغربی رائے عامہ کے سامنے پیش کریں تو مغربی پالیسی ساز لازماً اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے۔
روس نے شام پر امریکی حملے کے بعد امریکا سے فضائی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے کے بعد امریکا سے تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔پوری دنیا میں امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف ایک فضا بن چکی ہے۔ سرمایہ داری نظام اپنے خاتمے کی طرف رواں ہے اور امریکہ اسے بچانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔شام پر امریکی حملے کے خلاف نیویارک اور شکاگو میں ہزاروں افراد نے احتجاج کیا اور ٹرمپ مخالف نعرے لگائے لیکن امریکا شام پر مزید فضائی حملوں کے لیے تیار ہے۔
عالم اسلام کے لیے المیہ ہے کہ شام پر امریکی حملے کے بعدمغرب کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا بھی تقسیم ہوگئی ، برطانیہ، فرانس ، جرمنی، اسرائیل، آسٹریلیا، کینیڈا، سعودی عرب اور ترکی نے امریکی کارروائی کی حمایت کر دی جبکہ ایران اور روس نے امریکی حملے کی مذمت کرتے ہوئے شام کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا۔
جغرافیائی حقائق کے مطابق عراق اور بحرین شیعہ اکثریت کے علاقے ہیں جبکہ شام اور لبنان سنی اکثریتی علاقے ہیں جہاں اکثریت کو اقلیت اور اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنا اسی سازش کا شاخسانہ ہے۔ عالم اسلام کو اس صورتحال کا ادراک ہونا چاہیے اور اسکا حل تلاش کرنا چاہیے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم امہ کے اکابرین واضح چارٹر کے ساتھ ایران ، سعودی عرب اور ترکی جائیں اور انہیں بتائیں کہ ہمیں اپنے مسائل مل کر خود حل کرنے چاہئیں ورنہ عراق، مصر اور لیبیا کی طرح کے مسائل کا ہمیں بھی سامنا کرنا پڑیگا کیونکہ مسلم امہ کے لیے باعث تشویش بات یہ بھی ہے کہ او آئی سی ایک مفلوج ، بے حس اور لاتعلق ادارہ ہے مسلمانوں پر کوئی قیامت بیت جائے یہ ادارہ کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ اگرماضی سے سبق سیکھتے ہوئے امت مسلمہ اگر متحد نہ ہوئی تو ماضی کے طرح باقی ملکوں کو بھی باری باری اس سنگینی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
٭٭٭٭٭

Scroll To Top