عوام کا یک نکاتی ایجنڈا ” ہماری جان چھوڑو۔۔۔“ 05-02-2011


نامساعد حالات کامقابلہ کیا جاسکتا ہے `مگر جو صورتحال بے یقینی بے اطمینانی اور ” عدم امید “ سے پیدا ہوتی ہے وہ کسی بھی معاشرے اور ملک کے لئے زہر قاتل بن سکتی ہے۔ آج کل ہماری سیاسی پارٹیاں ایجنڈوں کی جنگ میں مصروف ہیں۔ پہلے (ن)لیگ نے دس نکاتی ایجنڈا پی پی پی کے منہ پر دے مارا۔ اب پی پی پی نے انیس نکاتی ایجنڈا (ن)لیگ کی طرف اچھال دیا ہے۔ ایک آٹھ نکاتی ایجنڈا ایم کیو ایم بھی پکڑے ہوئے ہے۔جہاں تک اے این پی کا تعلق ہے وہ صوبہ سرحد کا نام خیبر پختونخواہ رکھوا کر اور لال ٹوپیوں کا فیشن واپس لا کر سمجھ رہی ہے کہ اس کے ایجنڈے کی تکمیل ہوگئی ہے ` اس لئے اسے مزید کوئی ایجنڈا سامنے لانے کی فی الحال ضرورت نہیں۔
” ایجنڈے“ کی اصطلاح کے فروغ پانے سے پہلے ” میثاق “ کی اصطلاح ہر مرض کا علاج سمجھی جارہی تھی۔ 2006ءمیں جب ” میثاق جمہوریت “ کی ترکیب سامنے آئی تو یہ خیال عام ہوا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے اس پر دستخط کرکے پاکستان کا مستقبل محفوظ بنا لیا ہے۔ میاں نوازشریف کو ” میثاق “ کی اصطلاح اتنی اچھی لگی کہ انہوں نے ” میثاق پاکستان “ کا بھی اعلان کرڈالا ` ایم کیو ایم نے اپنا تازہ ترین جو ایجنڈا پیش کیا ہے اس کا نام انہوں نے ” میثاق معیشت “ رکھا ہے۔
کاش کہ یہ سارے میثاق اور ایجنڈے مل کر ملک کو اس ” بے یقینی ` بے اطمینانی “ اور ” عدم امید“ سے نجات دلا سکتے جس کا شکنجہ ہمارے اردگرد مسلسل تنگ ہورہا ہے۔
بات اب اس سوال تک جا پہنچی ہے کہ کیا تیونس اور مصر جیسا ” طوفان انقلاب “ یہاں بھی آسکتا ہے ۔ یا آئے گا ؟
جن دلوں میں مایوسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں وہاں سے تو یہی جواب بلند ہورہا ہے کہ ہمارے یہاں ایسا کوئی امکان نہیں۔ لیکن جو لوگ یہ جانتے ہیں کہ طوفان کسی سے پوچھ کر نہیں آیا کرتے انہیں ایسے کسی طوفان کاانتظار ضرور ہے۔ ان کا خیال ہے کہ عوام کا ” یک نکاتی ‘ ‘ ایجنڈا رنگ ضرور لائے گا ۔ اور وہ یک نکاتی ایجنڈا ہے۔۔۔
” ہماری جان چھوڑو۔۔۔“

Scroll To Top