کمشیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے ؟

 

مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت کو خبر دار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے ورنہ کشمیر سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔بھارتی اخبار کو دیے گے انٹرویو کے دوران سابق وزیر اعلی فاروق عبداللہ نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'جاگو، جاگو، صورت حال خراب ہے اور مجھے یہ نہ بتائیں کہ پاکستان اس مسئلے کا حصہ نہیں ہے'۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ 'آپ چاہیں یا نہ چاہیں لیکن آپ کو پاکستان سے مذاکرات کرنے ہوں گے اور اگر دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا چاہتے ہیں تو یہی بہتر ہے کہ مذاکرات ابھی شروع کیے جائیں'۔“
مقبوضہ وادی میں حالیہ دنوں میں بھارتی جبر استبداد میں جس طرح کا اضافہ ہوا اس نے وادی میں قیام امن کی کوششوں کو بڑی حد تک متاثر کیا۔(ڈیک) بھارتیہ جتنا پارٹی دراصل تنازعہ کشمیر کو طاقت کے زور پر دبانے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔ اسلام ، پاکستان اور مسلمان دشمنی پر سیاسی حمایت حاصل کرنے والی بی جے پی سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ معاملات کا بات چیت کے زریعہ حل کرنے کے لیے آگے بڑھے۔(ڈیک) بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابات بالخصوص اترپردیش میں نریندری مودی کی جیت نے اس کی رعونت بڑھائی ہے۔ نئی دہلی کو اس بات کا احساس نہیں ہورہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جوں جوں طاقت کا استمال کریگی تحریک آزادی کشمیر مذید طاقتور ہوکر سامنے آئے گی۔
دراصل یہی وہ حقائق ہیں جن سے سابق وزیر اعلی نے پردہ اٹھایا ۔ فاروق عبداللہ کا تجزیہ غلط نہیں کہ اگر کشمیر میں قیام امن درکار ہے تو اس کے لیے لازم ہے کہ پاکستان سے غیر مشروط طور پر بات چیت کا عمل شروع کیا جائے۔ دھونس اور دھاندلی کے زریعہ کشمیر میں جاری صورت حال پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔
سابق وزیراعلی نے درست کہا کہ 'ہمیں اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرتے ہوئے موجودہ مسئلے کو قابو کرنا چاہیے اس کو پھیلانے کے بجائے نوجوانوں، حریت اور دیگر رہنماں کے ساتھ بات کریں اور کوئی حل نکال لیں'۔
پاکستان ہو یا آل پارٹیز حریت کانفرنس سب ہی اس حقیقت سے باخوبی آگاہ ہیں کہ بھارت کو مقبوضہ وادی میں جب جب مشکلات درپیش آئیں اس نے بات چیت کا ڈرامہ رچایا ۔مگر جب صورت حال بہتر ہوئی تو چانکیہ سیاست کے پیروکار نے پوری قوت سے کشمیر میں جبر واستحصال کاسلسلہ شروع کردیا۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کو ایک بار پھر مشکلات درپیش ہیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ کا خیال تھا کہ شائد بے گناہ اور نہتے کشمریوں کو شہید کرکے وادی میں خوف کی فضا پیدا کردی جائے گی مگر عمل ایسا نہ ہوسکا۔ پاکستان اور شہیدوں کے وارث یعنی مقبوضہ کشمیر کے عوام کو اب ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تحریک آزادی کشمیر کے لیے فعال سیاسی قوتوں کو اپنی صفوں میںاتفاق واتحاد پروان چڑھانا ہوگا۔ بہت بہتر ہوگا اگ فاروق عبداللہ کے بیان کو بھارت کو آئینہ دکھانے کے لیے استمال کیا جائے۔ سابق وزیر اعلی کا کہنا اہم ہے کہ اے بھارتیوں 'تم کشمیر کو کھو رہے ہو بہتر ہے کہ جاگ جاو اور عسکری حل کے بجائے سیاسی حل نکالنے کا سوچیں اور اپنی اونچی اڑان سے نیچے آئیں کیونکہ بہت خراب صورت حال نظر آرہی ہے'۔
فارق عبداللہ یہ بھی بار بار کہہ رہے ہیں کہ کشمیر ی نوجوان بپھرے ہوئے ہیں جو اسے قبل میں نے نہیں دیکھے۔
مقبوضہ کشمیر میںموجودہ صورت حال کی وجہ حالیہ لوک سبھا کے ضمنی انتخاب کے میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر اندھ دھند فائرنگ کے نتیجے میں 8 معصوم او رنہتے شہریوں کی شہادت بنی جبکہ اب تک مختلف کاروائیوں میں 100 کے قریب زخمی ہوچکے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال کے باعث ضمنی انتخاب ملتوی کردیے گے ۔
مبصرین کا خیال ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ضمنی انتخابات کے دوران شہادتوں اور کشیدگی دراصل حکومت کی ناکامی ہے ۔ کشمیر میں درپیش صورت حال کسی طور پر اچانک رونمانہیں ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ برہان وانی کی شہادت سے لے کر اب تک وادی میں حالات ملسسل کشیدہ ہیں۔ کشمیری عوام شائد اس نتیجے پر پہنچ چکے کہ بھارت سے کسی قسم کی خیر کی توقع نہیں لہذا انھیں اپنے زور بازو سے ہی مسائل حل کرنا ہونگے۔ بظاہر بھارت کی جانب سے کشمریوں کو تحفظ دینے کے وعدے کیونکر وفا ہونگے جب عملا بھارتی فوج خود بے گناہ کشمریوں کے قتل عام میں ملوث پائی جارہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل کشمیر نے نئی دہلی کی جانب سے سیکیورٹی فراہم کرنے کے منصوبے کو عملا مسترد کردیا ۔ ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ بی جے پی کی جانب سے سابق وزیراعلی کو ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے حوصلہ افزائی کی گی۔ تاہم طے شدہ منصوبہ کے مطابق معاملات درست سمت میں آگے نہ بڑھ سکے اور بھارتی الیکشن کمیشن کو 12 اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخاب کو 25 مئی تک ملتوی کرنے پڑے ۔ تاریخی طور پر مقبوضہ وادی میں حالیہ عام انتخابات میں کشمریوںکی اکثریت نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔ الیکشن والے دن مقبوضہ وادی کی سڑکیں اور گلیاں سنسان رہیں اور کشمیری عملا لاتعلق رہے۔ صورت حال کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ اس بار حریت رہنماوں کے بائیکاٹ کی اپیل پر صرف 6 فی صد ووٹ ڈالے گئے جبکہ دوسری جانب کشمریوں کے احتجاجی مظاہروں اور شہادتوں نے حالات انتہائی کشیدہ کردئیے۔

Scroll To Top