اب ملک دشمن ایجنٹوں کو معافی نہیں ملے گی !

گذشتہ برس بلوچستان سے گرفتاری کیے جانے والے انڈین بحریہ کے افسر اور 'را' کے جاسوس کلبھوشن یادو کو فوجی عدالت نے سزائے موت دے کر واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان دشمنوں کے لیے اب کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوجی عدالت کے فیصلے کے تحت کلبھوشن یادو کو موت کی سزا دیے جانے کی توثیق کر دی ۔ میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ پر بتایا کہ بھارتی جاسوس کا مقدمہ فوجی عدالت یعنی فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت چلایا گیا جس کے بعد اسے سزائے موت سنائی گئی۔ کلبھوشن کو قانونی تقاضوں کے مطابق اپنے دفاع کے لیے ایک وکیل بھی مہیا کیا گیا ۔یاد رہے کہ وزیرِاعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے رواں برس مارچ میں پارلمینٹ کو بتایا کہ کلبھوشن یادو کو بھارت کے حوالے کرنے کا کوئی امکان نہیں اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔“
(ڈیک) وطن عزیز میں لسانی ، سیاسی اور مذہبی دہشت گردی میں ایسے عناصر طویل عرصے سے فعال ہیں جنھیںکسی نہ کسی شکل میں روایتی دشمن کی حمایت حاصل ہے۔ شک نہیں کہ بھارت نے ملک کے مختلف حلقوں میں اپنے حمایت افراد اس انداز میں گھسا دیے کہ وہ مسلسل اس کے مفادات کے مطابق کام کررہے ۔(ڈیک)
'را' کے ایجنٹ اور بحریہ کے افسر کمانڈر کلبھوشن سدھیر یادو کو تین مارچ 2016 انسداد دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے پاکستان کے خلاف جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرگرفتار کیا گیا ۔ کلبھوشن پاکستان میں حسین مبارک پٹیل کے نام سے سرگرم تھا اور اس کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے سیکشن تین کے تحت مقدمہ چلایا گیا ۔ سرکاری محکموں کی تحقیقات میں بھارتی جاسوس کے خلات تمام الزامات کو درست پایا گیا۔ کلبھوشن یادو نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے را نے پاکستان میں جاسوسی اور سبوتاژ کی کارروائیاں کرنے اور اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور انتظام کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی۔
مارچ 2016 میں کلبھوشن وڈیو پیغام میں اعتراف کرتا ہوا دکھائی دیا کہ وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے اور وہ را کے لیے کام کر رہا تھا۔چھ منٹ دورانیے کی اس مشتمل ویڈیو میں کلبھوشن یادو کا کہنا تھا کہ کہ اس نے 2013 میں را کے لیے کام شروع کیا اور وہ کراچی اور بلوچستان میں را کی جانب سے بہت سی کارروائیاں کرواتا اور وہاں کے حالات کو خراب کرتا رہا۔ ادھر بھارتی وزراتِ خارجہ نے کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان کو مسترد کرتے ہوئے اس کا بھارتی حکومت سے تعلق مسترد کردیا تھا ۔
تاریخی طور پر کلبھوشن یادیو پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار اور سزا پانے والے جاسوسوں کی فہرست میں تازہ اضافہ ہے۔ اس سے قبل سربجیت سنگھ کو 1990 میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا ۔اس وقت بھارتی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ 27 سالہ سربجیت سنگھ اپنے کھیتوں پر ہل چلاتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کرگیا مگر پاکستان نے سربجیت کو فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں 4 بم دھماکے کرانے کے الزام میں گرفتار کیا جس میں 14 پاکستانی شہری شہید ہوئے ۔ جرم ثابت ہونے پر بعد میں سربجیت سنگھ کو سزائے موت سنادی گی۔ سربجیت سنگھ کی سزا پر ابھی عمل درآمد ہونا تھا کہ 26 اپریل 2013 میں کوٹ لکھپت جیل میں جیل میں دو قیدیوں نے سربجیت سنگھ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوکر لاہور کے جناح ہسپتال میں داخل ہوا مگر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 2 مئی 2013 کو چل بسا ۔یاد رہے کہ بھارت نے سربجیت سنگھ کی لاش کو سرکاری اعزاز کے ستاھ تدفین کا انتظام کیا۔کشمیر سنگھ سزائے موت پانے وال ایک اوربھارتی جاسوس تھا جس نے 35 سال پاکستانی جیل میں گزارے تاہم دوران قید وہ اس بات پر مصر رہا کہ وہ جاسوس نہیں ۔کشمیر سنگھ کو 1973 میں گرفتار کیا گیا تاہم سابق صدر پرویز مشرف نے اسے معافی دے دی مگر جب وہ بھارت واپس پہنچا تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ سرحد پار کرتے ہی کشمیر سنگھ نے اعتراف کیا کہ 'میں جاسوس تھا اور اپنا کام کررہا تھا'۔ بھارتی حکام کے مطابق کشمیر سنگھ کو اس کے کام کے بدلے 400 روپے ماہانہ ادا کیے جاتے تھے۔چندی گڑھ پہنچنے پر کشمیر سنگھ نے برملا کہا کہ 'میں اپنے ملک کی خدمت کرنے کے لیے گیا تھا اور پاکستانی حکام بھی مجھ سے یہ راز اگلوا نہیں سکے'۔ایک اور بھارتی جاسوس رویندر کوشک بھارتی ریاست راجستھان میں پیدا ہو وہاں وہ بطور آرٹسٹ کام کرتا تھا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اسے بھرتی کرلیا۔دو برس تک ٹریننگ دینے کے بعد کوشک کو 1975 میں پاکستان بھیج گیا جہاں اس نے نبی احمد شاکر کے نام سے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ معاملہ کا خوفناک پہلو یہ ہے کہ گریجویشن کے بعد کوشک نے بطور کمیشنڈ آفیسر پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرلی اور ترقی پاکر میجر کے عہدے تک جاپہنچا۔ وہ 1979 سے 1983 تک کوشک حساس معلومات را تک پہنچاتا رہا تاہم اس کا یہ راز اس وقت فاش ہوگیا جب پاکستانی فورسز نے ایک اور بھارتی جاسوس کو گرفتار کیا اور اس نے کوشک کے بارے میں سب بتادیا۔کوشک ملتان کی جیل میں 16 سال تک مقید رہا اور دوران قید اسے پھیپھڑے کا عارضہ لاحق ہواجس کے بعد 2001 میں وہ چل بسا۔ایک اور بھارتی جاسوس شیخ شمیم کو پاکستان نے جاسوسی کے الزام میں 1989 میں گرفتار کیا ۔حکام کا کہنا تھا کہ شمیم کو پاک بھارت سرحد کے قریب سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔شیخ شمیم کو پاکستان میں 1999 میں پھانسی کی سزا دی گئی ۔

Scroll To Top