لوٹ مار کر یسی کا یہ نظام پاکستان کو لے ڈوبے گا ! 01-02-2011

ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی پارلیمانی جمہوریت بھارت میں وفاق اور ریاستوں کے منتخب وزراءکی کرپشن کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا ہے ` اور دوسری طرف ہمارے وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کرپشن کو محض ایک الزام ثابت کرنے کے لئے ” لوٹ مار کریسی “ کے اس نظام کا بھرپور دفاع کریں گے جس نے قوم کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے والے وزراءکی فوج ظفر موج کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ اپنے تازہ ترین بیان میں وزیراعظم صاحب نے ایک طرف تو یہ کہا ہے کہ وزراءکی تعداد کم کرکے وہ آمریت کو دعوت نہیں دیں گے ` اور دوسری طرف کرپشن کے الزامات میںنا اہل قرار پانے والے سیاست دانوں کی پوری تاریخ پر روشنی ڈالی ہے۔
یہ بات تو شاید کسی کی بھی سمجھ میں نہ آئے کہ وزراءکی فوج ظفر موج میں کمی سے آمریت کو دعوت کیسے ملے گی مگر وزیراعظم صاحب کی اس بات میں کافی صداقت ہے کہ ماضی میں جب بھی حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہر جانے والی حکومت کے وزراءو غیرہ پر کرپشن کے سنگین الزامات لگے۔ فوجی حکمرانوں نے اقتدار سنبھالتے ہی پہلا اقدام یاست دانوں کی کرپشن کو منظر عام پر لانے اور انہیں نا اہل قرا ر دینے کا کیا۔ مگر یہ کام صرف فوجی حکمرانوں نے نہیں ” جمہوری“ حکمرانوں نے بھی ” سر زد“ ہوا۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ جناب زیڈ اے بھٹو مرحوم نے بیک جنبش قلم ایک سو ایسے سرکاری افسروں کو برطرف کردیا تھا جنہیں رموز حکمرانی پر عبور حاصل تھا۔؟ کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کے خلاف کرپشن کی چارج شیٹ نواز شریف کی تیار کردہ تھی ؟ اور کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ 1992ءکے آخر میں نوازشریف کی پہلی حکومت کے خلاف وائٹ پیپر محترمہ بے نظیر بھٹو کی زیر ہدایت ان کے داست راست سلمان تاثیر (مرحوم) نے جار ی کیا تھا (Plunder of Pakistan)؟ یہ درست ہے کہ کرپشن کی ایجاد کا سہرا پی پی پی کے سر پر نہیں ڈالا جاسکتا ۔ اور نہ ہی سیاست دانوں کو کرپشن پر اجارہ داری حاصل ہے۔ لیکن میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ کرپشن کو زیادہ عروج آمریتوں میں نہیں ایسی جمہوریتوں میں حاصل ہوا ہے جن میں زیادہ سے زیادہ عوامی نمائندوں کو خوش رکھنا حکمرانوں کی مجبوری رہی ہے۔ یہی وہ مجبوری ہے جو موجودہ ” جہازی سائز کی کابینہ“ سے چند وزراءکی علیحدگی کے راستے میں حائل ہے۔
پاکستان کی ترقی کرپشن کے اس نظام میں ممکن ہی نہیں جسے ہم پارلیمانی جمہوریت کہتے ہیں اور جو دراصل ” امراءشاہی “ اور ” لوٹ مار کریسی “ ہے۔ اس نظام میں عوام کو اپنی پسند کی ایسی قیادت منتخب کرنے کا موقع کبھی ملے گا ہی نہیں جو خود کو ان کے آگے جوابدہ سمجھے۔
وزیراعظم گیلانی خودکو صرف ” عوامی نمائندوں “ کے سامنے جوابدہ سمجھتے ہیں جن کی حمایت پر ان کا قصر اقتدار کھڑا ہے۔
اور یہ منتخب عوامی نمائندے کون ہیں ؟
وہ امرا¿ سرمایہ دار اور با رسوخ لوگ جو کروڑوں کی سرمایہ کاری کرکے پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں ` اور اگر اپنی ” مرت نمائندگی “ میں اپنے سرمائے کو دس گنا بیس گنا یا سو گنا منافع کے ساتھ واپس نہ لے سکیں تو خود کو نالائق اور بے وقوف سمجھیں۔۔۔!!
اگر کرپشن کے خلاف جنگ لڑی اور جیتی جانی ہے تو پہلے لوٹ مار کریسی کے اس نظام کا خاتمہ ضروری ہوگا جو وزیراعظم کو دوچار وزراءفارغ کرنے کا اختیار بھی نہیں دیتا۔
اور اگر یہ نظام قائم رہا تو (خدا نخواستہ)یہ پاکستان کو لے ڈوبے گا!

Scroll To Top