ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ اداروں کی مضبوطی اور وسائل کی عوام میں منصفانہ تقسیم کے لیے ملک کے وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں سیاست میں لوگ صرف پیسہ بنانے کے لیے آتے ہیں مگر میرے سیاست میں آنے کا مقصد نظام کو درست سمت میں لانا تھا عمران خان نے کہا کہ اگر میں برطانیہ نہ جاتا تو آج سیاست دان نہ ہوتا۔“
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کا یہ کہنا غلط نہیں کہ مملکت خداداد پاکستان میں سیاست کاروبار بن چکا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ملک کی شائد ہی کوئی بڑی کاروباری شخصیت ہو جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاست سے منسلک نہ ہو۔ افسوس یہ ہے کہ قومی منظرنامہ پر موجود افراد کی اکثریت پر بدعنوانی کے بڑے بڑے الزامات ہیں مگر عوامی عہدہ رکھنے پر انھیں روکنے اور ٹوکنے والا نہیں۔ ملک میں احتساب مذاق بن کررہ گیا ۔ حالیہ دنوں میں سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کی سماعت کے دروان سپریم کورٹ کو یہاں تک کہنا پڑا کہ نیب کو اس کی بدترین کارکردگی کی بنیاد پر دفن کردیا گیا ہے۔
سوال یہ ہے پاکستان جیسے ترقی ملک میں بہتری کیونکر آئے گی جب سیاست میں آنے کا مقصد ہی اپنے گروہی وانفرادی مفادات کو تحفظ دینا قرار پائے ۔ وطن عزیز میں معاملہ یہ نہیں کہ مسائل کا حجم زیادہ ہے تشویش اس پر ہے کہ کلیدی عہدوں پر براجمان حضرات اپنی زمہ دایاں پوری کرنے کو تیار نہیں۔
عمران خان نے درست کہا کہ کرکٹ سمیت زندگی کے ہر شبعہ میں رہنمائی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ اگر کرکٹ میں بھی کمزور ٹیم سے بڑے بڑے کام لیے جاسکتے ہیں مگر شرط یہ کوئی اگر کوئی یہ کام لینا چاہے۔ افسوس کہ ہمارے ہاں کرکٹ بورڈ کے سربراہ کی اہلیت سے لے کر کسی بھی بڑے زمہ دار شخص کو اہلیت کے مطابق نہیں رکھا جاتا۔ کرکٹ میں ڈومیسٹک کرکٹ بدترین صورتحال دوچار ہے۔ عمران خان نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا ڈومیسٹک کرکٹ میں درپیش مسائل ہی ہیں کہ قومی کرکٹ ٹیم کا کپتان مصباح 34 سال کی عمر میں قومی کرکٹ میں آتا ہے جبکہ آسٹریلیا میں 34 سال کی عمر میں کرکٹر ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ بدقسمتی کے ساتھ ہی کرکٹ ہی نہیں ہر شبعہ انحاط پذیر ہے۔ اہل اقتدار ترقی کے دعوے صبح وشام کرتے نہیں تھکتے مگر عملا حالت یہ ہے کہ ترقی صرف مخصوص خاندانوں اور شخصیت کی ہورہی جبکہ عام آدمی دن بدن مسائل کی دلدل میں دھنسا جارہا۔
ٹھیک ہی کا کہا جاتا کہ گورنس یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔بیڈ گورنس کسی شہ کا نام نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی ترجیحات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کم وبیش 35سال سے سیاست میں متحرک ہے، اس کی حمایت کا گڑھ پنجاب ہے مگر پانچ دریاوں کی سرزمین کے باسی تاحال پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ تعلیم اور صحت سمیت کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جس پر رشک کیا جاسکے۔ پنجاب پولیس کی کارکردگی کے واقعات آئے روز عوام کا منہ چڑھانے آموجود ہوتے ہیں۔(ڈیک) اہل اقتدار کی جانب سے نظام کے بدلنے کی باتیں محض لوگوں کو خوش کرنے کے لیے کی جارہیں جبکہ عملا حکمران رائج نظام کے بڑے محافظ ہیں۔(ڈیک) پنجاب اور بلوچستان کے ساتھ ساتھ سندھ حکومت کی کارکردگی بھی کسی طور پر اطمنیان بخش نہیں۔ حالیہ دنوں میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کا معاملہ صوبائی حکومت کی ترجحیات کو بتانے کے لیے بہت کافی ہے۔ خیبر پختونخوا کی پولیس ملک دیگر صوبوں کی پولیس کے برعکس تب ہی بہتر خیال کی جاتی ہے کیونکہ بظاہر اس پر کوئی سیاسی دباو نہیں۔
بدلے ہوئے ماحول میں سیاسی جماعتوں عوام کو مارشل لاءسے ڈرانا چھوڈ دینا چاہے۔ بدلے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں ایسا ممکن نہیںرہا کہ اچانک رائج نظام کی بساط لپیٹ دی جائے۔ادھر ملک میں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ہوتے ہوئے فوج اس لیے مضبوط ہوئی کہ اس نے اپنی کارکردگی کی بدولت عوام کے دلوںمیںجگہ بنائی۔ حالیہ دنوں میں عدلیہ بھی عوام کی مشکلات حل کرنے کے لیے میدان عمل میں موجود ہے۔یہ فعال عدلیہ کی بدولت ہی ممکن ہوا کہ پاناما لیکس کے باعث تاریخ میں پہلی مرتبہ وزیراعظم سے پوچھ گچھ کی جارہی۔قومی سیاست کو تھانیدار یا پٹواری کے چنگل سے نکالنا ہوگا۔ ہر قومی ادارے کو آئین میں دی گی ہدایات کی روشنی میں ہی اپنا کام کرنا ہوگا۔ ملکی اداروں کی مضبوطی اور وسائل کی عوام میں منصفانہ تقسیم ہی سے نہ صرف ملک کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے بلکہ عام آدمی کی حالت زار میں بھی نمایاں بہتری لائی جاسکتی ہے۔
ملک میں دہشت گرد کی ایک وجہ ستے اور فوری انصاف کی فراہمی میں رکاوٹ بھی ہے۔ دہشت گرد دراصل اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اپنی حمایت میں اضافہ کررہے۔ دراصل بطور قوم ہمیںماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔ روس اور افغان جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا اس پر کسی طور پر اطمنیان کا اظہار نہیں کیا سکتا۔ مذہب اورلسان کے نام پر مسلح گروپس بنے ، کلاشنکوف کلچر پروان چڑھا مگر اہم اقتدار اپنے اپنے مفادات کو تحفظ دینے میں مگن رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ناقص خارجہ پالیسی کی بھاری قیمت قوم کو دہشت گردی کی صورت میں تاحال ادا کرنا پڑ رہی ہے دراصل اب خود احتسابی پر عمل ہی ہم اپنے آنے والے کل کو بہتر اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔

Scroll To Top