امن دونوں کی ضرورت ہے

پاک اففان سرحد پر باڈ لگانے سے متعلق ایک رائے یہ ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا اس سے بہتر طریقہ کوئی نہیں رہا۔ وجہ یہ کہ پاکستان اور افغانستان سالوں سے ایک دوسرے پر یہ الزام عائد کرتے چلے آرہے کہ سرحد پار مسلح گروہوں کے ان ہاں دہشت گردی کی کاروائیاں کرنے میں ملوث ہیں۔ غیر جانبدار حلقوں کے بعقول پاکستان کے برعکس افغانستان میں ایسی کالعدم تنظمیں موجود ہیں جو نہ معصوم انسانوں کو قتل کرتی ہیں بلکہ اس کا برملا اعتراف بھی کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے افغانستان سمیت عالمی برداری کو بتادیا کہ بادڑ ڈیورنڈ لائن اور فغانستان کی جانب سے 'متنازع' سمجھے جانے والے دیگر حصوں پر نہیںلگائی جارہی تاہم پہلے مرحلے میںچھ سے آٹھ کراسنگ پوائنٹس پر سرحدی باڑ نصب کی جا ئیگی ۔اس بات کی تصدیق قومی اسمبلی کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین اویس لغاری نے غیر ملکی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں کی ۔ اولیس لغاری کا دوٹوک انداز میں کہنا تھا کہ ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کی جانب سے متنازغ سمجھے جانے والے حصوں پر باڑ نہیں لگائی جارہی۔ایک سوال کے جواب میں اولیس لغاری نے یہ بھی کہا بائیو میٹرک کے ذریعے افغان پناہ گزین کی آمدورفت میں آسانی فراہم کی جائےگی۔“
پاکستان اور افغانستان کے حالات سے باخبر حضرات باخوبی جانتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منسوب پاک افغان سرحد تقریبا 2400 کلومیٹر پر مشتمل مشکل اور پچیدہ علاقے کانام ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کی افغانستان میں آمد کے ساتھ ہی پاکستان نے ایک سے زائد بار اس کا تقاضا کیا کہ باہم الزام تراشی سے بچنے کا موثر اور بہترین حل یہی ہے کہ سرحدی علاقوں میں غیر قانونی نقل وحرکت کو روکا جائے۔
یہی سبب ہی حال ہی میں سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحدی علاقوں کے دورے کے اعلان کیا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا اور مہمند اور باجوڑ ایجنیسوں کے سرحدی علاقوں کو خطرات کے سبب ترجیح دی جارہی۔
طویل عرصے سے خانہ جنگی کا شکار افغانستان خود اپنے عوام کی مشکلات میں اضافہ کررہا وہی اس سے ہمسایہ ملکوں میں بھی مسائل پیدا ہورہے۔ اب تو یہ بات بڑی حد تک ثابت ہوچکی کہ افغانستان میںبڑی طاقتیں اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے اس انداز میں سرگرم عمل ہیں کہ امن اس سرزمین پر خواب بن کررہ گیا۔ یقینا افغانستان کے مسئلے کا حل عسکری نہیں مگر افغان طالبان سے بات چیت کیے بغیر امن وامان کی ہر کوشش ناکام ثابت ہوسکتی ہے۔ ماضی میں افغان طالبان تھے تو اب عالمی دہشت گرد تنظیم داعش بھی میدان میں آگی ۔ ہونا تو یہ چاہے جو طالبان دولت اسلامیہ سے ہاتھ ملانے کو تیار نہیں انھیں قومی دھارے میں آنے کا موقعہ دینا چاہے۔
پاکستان یقنی طور پر افغانستان میں امن وامان کی کوششوں میں تعاون کررہا مگر کابل کو سب سے پہلے اپنے ہاں سے نصراللہ گروپ اور جماعت الاحرار کے ٹھکانوں کو ختم کرنا ہوگا۔ اس میں شبہ نہیں کہ افغان حکومت کی پورے ملک میں رٹ نہیں مگر جہاں جہاں اس کا اثر رسوخ ہے بہتری کے لیے کوشش کرنا ہوگی۔
افغانستان میں امن وامان بہتر بنانے کے لیے رواں ماہ ماسکو میں کثیرالملکی امن مذاکرات خوش آئند ہے یہ اقدام دراصل اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کررہا کہ مذاکراتی عمل زندہ رہنا چاہیے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دراصل ماسکو مذاکرات سے امریکہ کو افغان پالیسی پر نظرثانی میں مدد ملے گی۔'
افغان حکومت کو مسائل کا زمہ دار پاکستان کو قرار دینے کی روش سے تائب ہونا ہوگا۔ دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کا الزام پاکستان پر لگانے کی بجائے کابل کو آگے بڑھ کر پاکستان کی ان قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہے جو اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری وساری ہیں۔حقیقت یہی ہے کہ پاکستان کسی بھی سطح پر ریاستی دہشتگردی میں معاونت نہیں کر رہا۔ اس کے برعکس پاکستان میں ہونے والے آئے روز دہشت گردی کے واقعات اس کی مشکلات کا منہ بولتاثبوت ہیں۔ افغان قیادت کو فوری طور پر اپنی کمزوریوں پر قابو پانا ہوگا۔
پاکستان کو بھی اس پہلو پر سوچ وبچار کرنا ہوگی کہ آخر وہ کون سے وجوہات ہیں جن کی بنا پر وہ افغان عوام کے دل ودماغ جیتنے میں ناکام ہوا ہے۔ تمام تر قربانیوں اور تعاون کے باوجود افغان عوام اگر پاکستان کے خلاف ہیں تو کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی گڈ بڑ ضرور ہے جسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ اسے کم سے کم الفاظ میں پاکستان کی ناکامی اور بھارت کی کامیابی کہا جاسکتا ہے کہ نئی دہلی بڑی حد تک افغانوں کو پاکستان سے دور کرنے میں کامیاب رہا۔ اگر پڑوسی ملک میں کوئی یہ سمجھتا کہ ان کے ہاں دہشت گردی میں پاکستانی سرزمین استمال ہورہی ہے تو اس غلط فہمی کو ختم کرنا ہوگا۔ افغان حکومت کو باخوبی سمجھ لینا ہوگا کہ پاکستان اور افغان عوام صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مختلف رشتوں میں بندھے ہیں۔(ڈیک) مذہبی اور ثقافتی رشتوں کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ سرحد پار قبائل نے ایک دوسرے کے ہاں شادیاں کررکھیں ۔ سینکڑوں نہیں ہزاروں خاندان اس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ یکجا ہیں کہ انھیں باہم الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس صورت حال کو کمزوری کی بجائے دونوں ملکوں کی طاقت بنانا ہوگا چنانچ امن اور ترقی کا سفر تب ہی طے کیا جاسکتا ہے جب آرپار سے اعتماد اور محبت کا رشتہ بحال رہے (ڈیک)

Scroll To Top