پہلے نظام اور سوچ بدلیئے پھر وردی۔۔۔!!!

isma-tarar-logo

پاکستان بننے کے کچھ سالوں بعد سے سیاہ شرٹ اور خاکی پینٹ پنجاب پولیس کا یونیفارم تھا۔گذشتہ دنوں یہ خبر سننے میں آئی کہ انسٹھ سال بعد کالی وردی کا سفر ختم اور پنجاب پولیس کے افسران اور اہلکاروں نے نئی یونیفارم پہن لی۔ سیاہ شرٹ اور خاکی پنٹ کی جگہ زیتون رنگ کی نئی وردی نے لے لی۔ کل اسی سلسلے میں ٹی وی پر پولیس کے اعلیٰ افسرکا انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔
جب اُن سے اس بارے سوال کیا گیا کہ آپ کی کیا رائے ہے اور آپ اس نئی وردی میں کیسا محسوس کر رہے ہیں تو موصوف نے فرمایا کہ یہ ایک انتہائی عمدہ اقدام ہے اور اس سے ایک طرف تو پولیس کے جوانوں کا حوصلہ بلند ہو گا اور دوسرا وہ اپنے فرائض تندہی سے انجام دیں گے۔
یہ سننے کے بعد ایک طرف جہاں کافی حیرت ہوئی تو دوسری طرف کچھ سوالات بھی اُبھرے اور ان صاحب کی بات نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ مثلاً نئی وردی پہننے سے پنجاب پولیس کے جوان اپنے فرائض کس طرح بخوبی انجام دیں گے؟ کیا نئی وردی پہنتے ہی ان کے اندر کوئی جادوئی طاقت آجائے گی کہ وہ اپنا سابقہ رویہ اور روش تبدیل کر کے عوام الناس سے خوش اخلاقی سے پیش آنے لگیں گے؟یا پھر وردی پہنتے ہی ان کے ضمیر جاگ اُٹھیں گے اور وہ رشوت خوری اور کام چوری جیسی لعنت سے چھٹکارا پا لیں گے ؟ یا پھر اور بھی بہت سے نیک کام خوش اسلوبی سے کرنے لگیں گے۔
اس نئی وردی کی تمام خصویات اپنی جگہ لیکن پاکستان جیسے غریب ملک میں یہ سوال بھی اہم ہے کہ پنجاب پولیس کی وردی کی تبدیلی پر کتنا اضافی خرچہ آئے گا۔ کیا ہم اس عیاشی کے متحمل ہو سکتے تھے۔ لیکن آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا موقف ہے کہ انھوں نے پولیس کی وردی کی تبدیلی کے لیے حکومت سے کوئی اضافی فنڈ نہیں لیا بلکہ ہر سال وردی کے لیے جو پیسے ملتے ہیں ان ہی پیسوں میں وردی کی تبدیلی کی جا رہی ہے۔ یہ ایک عجیب بات ہے لیکن بات سمجھنے کی ہے۔
مختصراً یہ کہ جس طرح نئی پیکنگ میں پرانا ماڈل دینے سے مال کی کوالٹی میں بہتری نہیں آتی ۔ اسی طرح نئی وردی پہن لینے سے سوچ تبدیل نہیں ہوتی۔
پہلے نظام اور سوچ بدلیئے پھر وردی۔۔۔۔۔
ویسی وردی اگر بہتر ہوتی جو نظروں کو بھلی لگتی تو بات بھی تھی۔ یہاں تو وردی بھی عجب بے ڈھنگی سی ہے۔ رنگ توٹھیک ہے مگر ڈیزائین۔۔۔۔!!!

Scroll To Top