ہم ایک قوم ہیں اور الاخبار اس قوم کی آواز ہے

ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے کہ مجھے ایک عرصے تک الاخبار سے الگ رہنا پڑا۔ میرا کالم ضرور شائع ہوتا رہا لیکن کالم تو آج کی دنیا میں ہزار ہا میل کے فاصلے سے بھی چھپوایا جاسکتا ہے۔ میرے اور الاخبار کے درمیان جذباتی فاصلہ بہرحال اِتنا زیادہ کبھی نہیں رہا۔ الاخبار کو جس قسم کے مدّو جزر سے گزرنا پڑا ہے اس کی وضاحتیں میں یہاں پیش نہیں کروں گا۔
صرف یہ کہوں گا کہ اسے الاخبار کا ایک نیا جنم سمجھ لیں۔ یہ محض ایک اخبار نہیں ` ایک سوچ بھی ہے۔
ہم ایک قوم ہیں۔ اور الاخبار اِس قوم کی آواز ہے۔ اخباری صنعت اب مکمل طور پر ایسے ” ٹائی کونز“ کے قبضے میں جاچکی ہے کہ ان کے مقابلے پر آنا الاخبار کے بس کی بات نہیں۔ مگر اسے آپ نقار خانے میں طوطی کی آواز نہ سمجھیں۔ نجانے کیوں مجھے یقین ہے کہ ایک روز نقار خانے کا شور اس ” طوطی “ کی آواز میں دب کر رہ جائے گا۔ ایک عظیم قوم کی آواز ہونے کا یہی بہت بڑا فائدہ ہے۔
الاخبار کو اٹھارہ برس تک میں نے اسلام آباد میں بیٹھ کر چلایا۔ اب میں واپس لاہور آچکا ہوں جہاں میں نے 55برس قبل روزنامہ کوہستان سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا تھا۔روزنامہ کوہستان کے چیف ایڈیٹر نسیم حجازی تھے۔ میں 1964ءمیں اس کا ایڈیٹر بنا۔ میرے سینے میں ایک نہیں کئی ادوار کی داستانیں دفن ہیں۔ کچھ قارئین مجھے مصور کے غلام اکبر کے طور پر بھی جانتے ہوں گے۔
مگر اب دنیا بدل چکی ہے۔
یہ اور بات ہے کہ دنیا کتنی ہی کیوں نہ بدل جائے وہ اقدار کبھی نہیں بدلی جاسکتیں جن کی سربلندی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ” آدم ؑ“ کی تخلیق کی تھی اور حضرت ِانسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا تھا۔
اُن اقدار کو تاقیامت زندہ اور سربلندرکھنے کے لئے خالق حقیقی نے ہمارے رسول کو اپنا آخری پیغام دے کر دنیا میں بھیجا ۔
وہ پیغام آج بھی ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔
میرے لئے بھی ۔ آپ کے لئے بھی۔ الاخبار کے لئے بھی ۔
اور پوری نسل انسانی کے لئے بھی !
غلام اکبر

Scroll To Top