خدا نہ کرے کہ یہ ”بڑا “ فیصلہ ” بُرا“ ثابت ہو۔

اسمآ احمد تارڑ

اسمآءاحمد تارڑ


گزشتہ شب وفاقی حکومت نے PSLکا فائنل سخت حفاظتی اقدامات کے اندرلاہور میں کرانے کی حتمی منظوری دے دی۔ کسی بھی طرح کے معمول کے حالات میں بلاشبہ یہ پاکستانیوں اور خاص طور پر لاہوریوں کے لیے ایک انتہائی فخر اور خوشی کی بات ہوتی کیونکہ اس سے انٹرنیشنل کرکٹ اور کسی بھی قسم کے ایونٹ کی راہیں کھل جاتیں۔
مگر آج کے پاکستان کے حالات کچھ مختلف ہیں۔ آج کا پاکستان حالتِ جنگ میں ہے۔ اس لیے اس قسم کا کوئی بھی ایڈونچر ناصرف احمقانہ بلکہ خودکشی بھی ہو گا۔
اس سے حکومت نہ صرف شہریوں کی زندگی خطر ے میں ڈالے گی، بلکہ اُن کو ان کے روز مرہ کے کاروبار سے بھی محروم کر دے گی۔ کیونکہ اطلاعات ہیں کہ میچ سے ایک ہفتہ قبل ہی آس پاس کی تمام دوکانیں اور ریسٹورینٹ بندکرائے جا رہے ہیں۔
سوا ل یہاں یہ ہے کہ خدانخواستہ اگر کوئی بھی غیر معمولی واقعہ پیش آتا ہے کہ تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟ اور کون ان تمام لوگوں کے نقصان کا ازالہ کرے گا ، جن کے کاروبار ہفتہ بھر کے لیے بند ہوں گے؟
سڑکیں بند کر کے اور دکانیں بند کر کے دنیا کو کیا پیغام دیں گے؟
کچھ بااثر افراد صرف اور صرف اپنی انا کی تسکین اور پیسے کے لیے (جو کہ ان کی ہی جیبوں میں جائے گا) تمام لوگوں کی زندگیاں خطر ے میں ڈالے رہے ہیں۔
چنانچہ جب تک حکومت ہر شہری کو سیکورٹی فراہم نہیں کرے گی بالکل ویسی ہی جیسی وہ کھلاڑیوں اور سرکاری عہدیداران جیسے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو دے گی، تب تک اس قسم کے ایونٹ کرانا بے سود ہے۔ ہر جان قیمتی ہے۔ چاہے وہ غیر ملکی کھلاڑی کی ہو ،کسی عام شہری کی ہو، کسی سرکاری افسر کی ہو یا پھر وزیراعظم کی ہو۔

Scroll To Top