بڑی دیر کی آتے آتے !!

اسمآ احمد تارڑ

اسمآ احمد تارڑ

افواجِ پاکستان نے کل پورے ملک میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا اعلان کیا۔ جس کا نام ”آپریشن رد ِ الفساد“ رکھا گیا۔ تمام سیاسی جماعتوںاور عوام نے اس کا خیر مقدم کیا اور کرنا بھی چاہیے تھا۔
یہ آپریشن بہت پہلے شروع کیا جانا چاہیے تھا۔ مگر خیر ”دیر آید درست آید“ اس آپریشن میں سب سے بڑی رکاوٹ وفاقی اور پنجاب حکومت تھی۔ مگر ملک میں دہشت گردی کی حالیہ لہر نے اس بات کو ثابت کردیا کہ یہ کتنا ضروری تھا۔ سوال یہاں یہ اُٹھتا ہے کہ یہ دہشتگردی تبھی کیوں شروع ہوتی ہے جب کبھی نواز حکومت خطر ے میں پڑتی ہے؟ کیوں ہمیشہ نوازشریف کو بچانے کے لیے اس کے ”دوست “ ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں میں پورے ملک میں تقریباً دس سے زائد دھماکے ہوئے اور یہ ٹھیک اس وقت ہوئے جب میاں محمد نوازشریف کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری پانامہ کیس اپنے اختتامی مراحل میں ہے؛ اور ساتھ ہی ساتھ PSLکا فائنل لاہور میں ہونے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔
ملک کا بچہ بچہ اس بات سے آگاہ ہے کہ ان دھماکوں میں بھارت اور افغانستان ملوث ہیں۔ مگر ہمارے وزیر اعظم صاحب ان کا نام لینے تک کے روادار نہیں ۔ انہوں نے تو آج تک کلبھوشن یادیو کا نام تک اپنی زبان پر لانا پسند نہیں فرمایا۔ آخر کیوں؟
اب وقت آگیا ہے کہ نوازشریف صاحب ملک کے اصل دشمن کا نام زبان پر لے آئیں ۔ ورنہ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے….!!

Scroll To Top