بھٹو کے ایک عظیم تاریخی ورثے کے ساتھ یہ ظالمانہ مذاق کیوں؟ 21-07-2010

ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین جناب جاوید لغاری کی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے نتیجے میں جعلی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کے معاملے میں جو صورتحال ابھری ہے وہ میری رائے میں خوش آئند ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ جاوید لغاری صاحب کو وزیراعظم صاحب نے یہ یقین دہانی کرا دی ہے کہ ان کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹیں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس ضمن میں جاوید لغاری صاحب کے بھائی ڈاکٹر فاروق لغاری کی رہائی کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔
جب بھی کوئی حکومت یا انتظامیہ ” انصاف اور قانون“ کے تقاضوں کے خلاف کھل کر اقدامات کرنے پر اتر آئے تو اس کے نتائج خود اس کے لئے اچھے نہیںہوتے۔ وزیراعظم صاحب نے بروقت مداخلت کرکے پی پی پی کے امیج کو سہارا دینے کی قابل قدر کوشش کی ہے۔
جعلی ڈگریوں کا معاملہ یہ ہر گز نہیں کہ ” ڈگری یافتہ“ ہونے کی شرط درست یا جمہوری تھی یا نہیں ۔اصل معاملہ یہ ہے کہ کیا جعلسازی کے ارتکاب کو آنکھیں بند کر کے برداشت کیا جاناچاہئے یا نہیں۔
کون نہیں جانتا کہ جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ نے انتخابی عمل کی تکمیل کے لئے سیاسی جماعتوں کو بہت ہی کم وقت دیا تھا۔ اور یہ بات ممکن ہی نہ تھی کہ تمام امیدواروں کی ڈگریوں کے اصلی یا جعلی ہونے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کیا جاسکتا۔ اگر کوتاہی ہوئی بھی تھی تو اس کا ذمہ دار الیکشن کمیشن تھا۔
میری سمجھ میں نہیں آتا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے کچھ لیڈر ” جعلسازوں“ کے حق میں بیانات دے کر بھٹو کے تاریخی ورثے کے ساتھ ایک خوفناک مذاق کیوں کررہے ہیں۔؟

Scroll To Top