اگرخطرہ ” فوج “ سے ہے تو محاذ آرائی می ڈیا اور عدلیہ سے کیوں ؟ 20-07-2010

حکومتی حلقوں کی طرف سے بار بار یہ بیان آتا ہے کہ تمام تر سازشوں کے باوجود موجودہ جمہوری سیٹ اپ قائم رہے گا اور 2008ءکے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔ اگر موجودہ جمہوری سیٹ اپ کے بارے میں شکوک و شہبات ابھرے ہوئے ہیں تو اس کی ایک وجہ واقعی یہ ہوسکتی ہے کہ اس کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ جب ذکر سازشوں کا ہوتا ہے تو ذہن ماضی کی طرف جائے بغیر نہیں رہتا۔
اور جب ذہن ماضی کی طرف جاتا ہے تو یہ حقیقت سامنے آئے بغیر نہیں رہتی کہ جس سیٹ اپ نے بھی خود کو جمہوری کہا اور اپنے اس دعوے کی حمایت میں انتخابی عمل کے امتحان سے کامیابی کے ساتھ گزرنے کا ذکر کیا ¾ وہ سیٹ اپ فوجی مداخلت کے ذریعے ہی ختم کیا گیا اور اسے ختم کرنے والوں نے جواز ہمیشہ کرپشن اور نااہل حکمرانی کے عوامل کو بنایا۔
تو کیا سازشوں کا ذکر کرنے والے یہ کہناچاہتے ہیں کہ اب بھی جمہوری سیٹ اپ کو ” فوج“ کی طرف سے ہی خطرہ ہے۔؟
اگر حکومت کا دفاع کرنے والی بعض شعلہ بیان شخصیات کے ” طوفانی حملوں“ کو مدنظر رکھا جائے تو لگتا یہی ہے کہ ” سازشوں“ کا ذکر ” فوج“ کو موجودہ سیاسی افراتفری کا ذمہ دار قرار دینے کے لئے کہا جاتا ہے۔
پر سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر موجودہ سیٹ اپ کو حقیقی خطرہ اپنی بدمعاملگیوں اور بے عملیوں سے نہیں بلکہ فوج سے ہے ، تو پھر عدلیہ اور میڈیا کے ساتھ محاذ آرائی کیوں کی جارہی ہے۔؟
جمہوری نظام کا سب سے موثر دفاع صرف آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی طرف سے کیا جاسکتا ہے ،کیوں کہ ان دونوں اداروں کی آزادی کا انحصار جمہوریت کے تسلسل پر ہے۔
اگر عدلیہ اور میڈیا دونوں ادارے موجودہ جمہوری سیٹ اپ کے ” پرجوش“ محافظ بنے نظر نہیں آرہے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہوسکتی ہے ¾ اور وہ یہ کہ انہیں اس سیٹ اپ کے جمہوری ہونے کے بارے میں بحفظات ہیں۔

Scroll To Top