میڈیا اور سیاست دان مجرم کون؟ 10-07-2010

بلاشبہ قوم کا اجتماعی شعور بےدار کرنے مےں مےڈےا نے نہاےت اہم اور کلےدی کردار ادا کےا ہے۔ اور اگر مےں ےہ کہوں تو غلط نہےں ہو گا کہ بےداری کی اس لہر کو موج بنانے مےں جےو اور جنگ گروپ نے مےڈےا کی قےادت کی ہے۔ اس بات کا مطلب ےہ ہرگز نہ لےا جائے کہ جےو اور جنگ گروپ سے باہر مےڈےا سے وابستہ لوگوں نے اپنے فرائض کی ادائےگی مےں کوئی کمی دکھائی ہے۔ مےڈےا کے اندر جس انداز کی مسابقت کا ماحول موجود ہے اس کے پےش نظر کسی بھی گروپ کا عوامی امنگوں کی عکاسی مےں دوسرے کسی گروپ سے پےچھے رہ جانا کاروباری خودکشی کے برابر ہو گا۔ اےک لحاظ سے ”رےٹنگ“ (Rating) مےں سبقت لے جانے کی جنگ بھی ہے۔ پر اس جنگ کا فائدہ عوام کو زےادہ پہنچا ہے کےوں کہ ان کے احساسات اور ولولوں کی عکاسی تقرےباً پورے مےڈےا نے بڑے بھرپور انداز مےں کی ہے۔ےہاں مےڈےا سے مےری مراد ”قلم“ کم اور ”آواز“ زےادہ ہے۔ الےکٹرانک اور ڈےجےٹل ٹےکنالوجی کی بے پناہ ترقی نے قلم کے جرنےلوں کو بےک سےٹ ”پر جانے کےلئے مجبور کر دےا ہے‘ اور فرنٹ سےٹ پر آواز کے وہ” جادوگر“ آگئے ہےں جنہےں چند برس قبل تک مےڈےا کی دنےا مےں کوئی مقام حاصل نہےں تھا۔ مےری مراد ےہاں کاشف عباسی‘ مشتاق منہاس اور اس قبےل کے دےگر انےکر پرسن ہےں۔ لےکن کےا کوئی بھی دےانت دار شخص اس Impactےعنی”اثر“ سے انکار کر سکتا ہے جو ان مقبول انےکر پرسنز نے عوام کے شعور پر ڈالا ہے؟۔
مےڈےا سے سےاست دانوں کا ناراض ہونا ناقابل فہم نہےں۔ مےڈےا سے اےسا کوئی شخص کبھی خوش نہےں ہو گا جس کے پاس ”چھپانے“ کےلئے کچھ بھی ہو گا اور جو مےڈےا کی وجہ سے ”کچھ“ بھی چھپانے کے پوزےشن مےں نہےں رہے گا!!۔
ےہ جعلی ڈگرےوں کا معاملہ کچھ اےسا ہی ہے۔ جب تک کوئی جرم لوگوں کی نظروں مےں آنے سے بچا رہتا ہے‘ اس کا ارتکاب کرنے والے اس خوش فہمی مےں مبتلا رہتے ہےں کہ وہ کبھی قانون کی زد مےں نہےں آئےں گے۔ اوراگر قانون کی زد مےں آنے کا خوف ختم ہو جائے تو جرم ےقےنی طور پر پروان چڑھتا ہے۔
ےہ بات درست ہے کہ ”جرم“ کے مرتکب صرف سےاستدان نہےں ہوتے۔ مگر اس حقےقت سے انکار کےسے کےا جائے کہ سےاستدانوں کا چھوٹے سے چھوٹا جرم بھی معاشرے پر بڑے خوفناک نتائج مرتب کرتا ہے۔
اس لئے سےاست دانوں کےلئے بہتر ےہ ہے کہ وہ اپنا غصہ مےڈےا پر اتارنے کی بجائے‘ اپنی اصلاح کا کوئی راستہ نکالےں ےا پھر اپنی دنےا کے دروازے اےسے لوگوں پر بند کر دےں ”جرم“ جن کے ماتھوں پر لکھا ہوتا ہے۔

Scroll To Top