بلوچستان کے وزےر اعلیٰ کو صداقت گوئی کا اےوارڈ ملنا چاہئے 01-07-2010

ہم جب بھی جمہورےت کی شان مےں کوئی قصےدہ پڑھنا چاہتے ہےں تو ہمارا ذہن خود بخود آنجہانی ونسٹن چرچل کے اس قول کی طرف جاتا ہے جس مےں انہوں نے کہا تھا۔
”جمہورےت اےک برا نظام حکومت ہے‘ مگر جب تک اس سے بہتر نظام درےافت نہےں ہو جاتا ہمےں اسی کو چلانا اور اسی مےں چلنا ہو گا“۔
چرچل کی اس سٹےٹ منٹ کے دو پہلو ہےں۔ اےک تو ےہ کہ وہ جمہورےت مےں پائے جانے والے نقائص کا اعتراف کرتے تھے‘ اور دوسرا ےہ کہ وہ ہر دوسرے نظام کو جمہورےت سے برتر قرار دےتے تھے۔
چرچل نے ےہ بات برطانوی جمہورےت کو سامنے رکھ کر کی تھی۔ وہ جس ملک کی سوچ کو الفاظ کی شکل دے رہے تھے وہاں کی پانچ کروڑ کی آبادی مےں اخبارات کی مجموعی تعداد اشاعت پانچ کروڑ کے لگ بھگ ہے۔
برطانوی جمہورےت مےں کوئی جمشےد دستی زندان سے باہر اور پارلےمنٹ کے اندر نہےں دےکھا جا سکتا۔
اگر چرچل کو پاکستان کی قومی اسمبلی مےں تقرےر کرنی پڑتی تو وہ کےا کہتے۔۔۔؟
” اگر جمہورےت ےہی ہے تو اس کا علاج تلاش کرنے کی بجائے‘ اسے دفنانے کےلئے دو گز زمےن تلاش کرو“۔
مجھے معلوم ہے کہ چرچل کی ےہ بات سن کر پورا ہال ”شےم شےم شےم“ کے نعروں سے گونج اٹھتا۔ سچ بڑا کڑوا ہوتا ہے۔
مجھے ےہ سب کچھ لکھنے پر بلوچستان کے وزےراعلیٰ سردار اسلم رئےسانی کے اس ”ارشاد“ نے مجبور کےا ہے جس مےں انہوں نے کہا ہے کہ ”ڈگری اصلی ہو ےا جعلی ڈگری ڈگری ہوتی ہے“۔
پاکستان کے موجودہ سےاسی نظام اور سےاسی ڈھانچے کی جتنی بھرپور عکاسی رئےسانی صاحب کے ان الفاظ سے ہوتی ہے کسی دوسرے طرےقے سے ممکن نہےں۔
مےں رئےسانی صاحب کو اتنا بڑا سچ اتنی جرا¿ت اور بے باکی کے ساتھ بولنے پر خراج تحسےن پےش کرتا ہوں۔ انہوں نے ”اپنے اوپر“ بےٹھے ہوئے حکمرانوں کے ”انداز فکر و عمل“ کی بھرپور ترجمانی کر دی ہے۔

Scroll To Top